پی ٹی آئی کی بلوچستان پر آل پارٹیز کانفرنس، سیاسی جماعتوں کا بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کا مطالبہ
اے پی سی نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بدامنی پر شدید تشویش کا اظہار کیا،
بلوچستان میں غیرنمائندہ حکومت اور پالیسیاں بحران کا سبب ہیں، بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن بنایا جائے، بلوچستان میں تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مذاکرات کیے جائیں‘
بلوچستان سمیت ملک بھر میں سیاسی کارکنوں کے خلاف مقدمات ختم کئے جائیں، لاپتا افراد کو بازیاب کرایا جائے، جبری گمشدگیوں کا خاتمہ کیا جائے، بلوچ عوام کے معاشی استحصال کا سلسلہ بند کیا جائے، وسائل پر حق تسلیم کیا جائے، دہشت گردی کے تمام واقعات کی غیر جانبدار قومی کمیشن سے تحقیقات کرائی جائے‘
آل پارٹیز کا بلوچستان میں وفاقی اور صوبائی سطح پر وسیع سیاسی ڈائیلاگ شروع کرنے کا مطالبہ‘ ڈی آر اے اور دیگر قوانین کا غلط استعمال روکنے کا مطالبہ کیا، غیر نمائندہ حکومت کو بلوچستان کے بحران کا ذمہ دار قرار دیا گیا‘اے پی سی کا اعلامیہ
اسلام آباد(الفجر آن لائن) تحریک انصاف کے زیر اہتمام بلوچستان پر آل پارٹیز کانفرنس ہوئی جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے بلوچستان میں طاقت کا استعمال ترک کرکے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے، لاپتا افراد کی بازیابی، شفاف انتخابات، مقامی افراد میں وسائل کی تقسیم کے مطالبات پیش کردیے۔
پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے زیر اہتمام بلوچستان کے حالات پر آل پارٹیز کانفرنس خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ہوئی۔کانفرنس میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سمیت بلوچستان کی نمائندہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، اختر خان مینگل، جے یو آئی کے صلاح الدین، شاہد خاقان عباسی، اسد قیصر، مصطفیٰ نواز کھوکھر، محسن داوڑ، مولانا شاکر، جان محمد بلیدی، اصغر خان اچکزئی اور دیگر نے شرکت کی۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جاسوسی کے ادارے ریاست کی آنکھیں اور کان ہوتے ہیں دنیا بھر میں جاسوسی کے لیے ادارے ہیں اور وہ ملکوں کے لیے کام کرتے ہیں، جاسوسی کے ادارے گندے پانی سے سوئی ڈھونڈ لیتے ہیں لیکن باجوڑ سے خیبر اور کوئٹہ تک کیوں ناکامی ہے؟
ہمارے ادارے اتنے کمزور نہیں کہ وہ جان نہ سکیں کہ کون کیا کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پشتون اور بلوچ، اکبر اعظم کے وقت سے اپنے حق کے لیے لڑتے رہے ہیں، حالت یہ ہوگئی ہے کہ پشتون پگڑی اورداڑھی دہشت گردی کی علامت بن گئی ہے، ناانصافی سے نفرت بڑھتی ہے اور اس کے نتیجے میں بات دہشت گردی تک پہنچتی ہے،دنیا کے لاکھوں لوگ، انبیاء اور نیک اشخاص کو شہید کیا گیا، یہاں احتجاج کرنے والوں سے بات نہیں کی جاتی۔
جماعت اسلامی کے رہنما مولانا شاکر نے اظہار خیال کیا کہ بلوچستان میں یتیموں، بیواؤں اور قبرستانوں میں اضافہ ہورہا ہے، غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے نوجوان ڈاکو بن رہے ہیں، وہاں جموں کشمیر اور غزہ سے بھی بدتر حالات ہیں، بلوچستان میں دہشت گردی اور لاقانونیت انتہا پر ہے، وسائل ہیں لیکن مسائل بے تحاشا ہیں، لاپتا افراد کو بازیاب کرایا جائے، اس وقت حقیقی قیادت نہیں ہے جعلی قیادت ہے۔رہنما جے یو آئی مولانا صلاح الدین ایوبی نے کہا کہ ملک میں کوئی جمہوریت نہیں، سرمایہ دارانہ نظام بغیر جمہوریت کے وسائل پر قبضہ چاہتا ہے، ہم بھی اسی نظام کے ملازم ہیں، اب اسی مقصد کے لیے دہشت گردی اور اسمگلنگ کا نام دیا جاتا ہے، چمن بارڈر 2 سال سے بند ہے اور کہا گیا کہ دہشت گردی اور اسمگلنگ آرہی ہے، اب چمن بارڈر بند ہے دہشت گردی پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی ہے، ہم افغانستان کو 20 فیصد نقصان پہنچاتے ہیں تو ہمیں 80 فیصد نقصان ہوتا ہے، افغانستان کے بارڈرز کی بندش سے پاکستانی تاجروں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔نیشنل پارٹی کے سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ طویل جنگوں کے قصے کہانیاں اچھی نہیں لگتیں،
بلوچستان کے موضوع پر پی ٹی آئی نے کانفرنس بلا کر ہمت کی ہے، اس وقت بڑی ملکی سیاسی قیادت بلوچستان سے ہے، مولانا فضل الرحمن، محمود اچکزئی، ایمل ولی خان بلوچستان سے ہیں، ہر مشکل وقت میں بلوچ سیاسی قیادت نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا، پی ٹی آئی حکومت گرانے میں یہی بلوچستان کی قیادت پیش پیش تھی، اس وقت پہلا مطالبہ یہی تھا کہ انتخابی عمل سے ریاستی اداروں کا کردار ختم ہو، جب یہ بڑی جماعتیں اقتدار میں آجاتی ہیں تو وعدوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔جان محمد بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کی سیٹوں کی تعداد 16 ہے، 16 سیٹیں کیا مدد کرسکتی ہیں؟ اس نظام میں ہماری ساکھ بہت کمزور ہے، سینیٹ سی سی آئی، صدارتی انتخاب میں سب برابر ہیں مگر رویے الگ ہیں، این ایف سی، سی سی آئی میں نہیں جاتیں پارلیمان کا احترام نہیں کرتے، آئین پر عمل داری نہیں کرتے، بلوچستان کا مسئلہ آج کا نہیں دیرینہ ہے، اسلام آباد بلوچستان کو سنجیدہ نہیں لیتے اسے مسئلہ سمجھتے ہی نہیں، اسلام آباد میں بیٹھے لوگ اسے سیکیورٹی مسئلہ سمجھتے ہیں، بلوچستان ایک سنجیدہ سیاسی مسئلہ ہے، بلوچستان کا حل سیکیورٹی نہیں بلکہ اور ہے، بیماری جسم کے کسی بھی حصے میں دیگر حصے ٹھیک نہیں رہ سکتے، بلوچستان کے مسائل پر سنجیدہ ہونا پڑے گا۔، بجٹ سے لے کر قانون سازی تک بلوچستان اسمبلی سچ ایک پیچ پر ہے، ڈپٹی کمشنر کے لئے اضلاع میں ایک ایک ارب روپے رکھے گئے ہیں، بلوچستان اسمبلی میں دہشت گردی اور جرائم پر بات نہیں ہو سکتی، دس جولائی کا نوٹی فکیشن جاری ہوا کہ افغان کو یہاں سے نکالنا ہے، ایک شریف افغان یہاں کاروبار یا روزگار نہیں کر سکتا، پورا ہلمند اس وقت بلوچستان میں بیٹھا ہے اور افیم کی فصل والوں کو پشت پناہی دی گئی ہے۔

