کوئٹہ (الفجرآن لائن) وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ضلع واشک کی تحصیل ماشکیل میں نہتے اور بے گناہ مزدوروں کے بہیمانہ قتل کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہید ہونے والے صرف پنجابی مزدور نہیں تھے بلکہ پاکستان کے شہری، محنت کش اور ہمارے اپنے بھائی تھے۔ ان پر حملہ کسی ایک صوبے یا قومیت پر نہیں بلکہ پاکستان کی وحدت، آئین اور ریاست پر حملہ ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آزادی کی نام نہاد تحریک کا لبادہ اوڑھنے والے دہشت گرد نہتے مزدوروں کو نشانہ بنا کر ایک مرتبہ پھر اپنے مکروہ عزائم دنیا کے سامنے بے نقاب کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ محنت کشوں کا قتل کسی سیاسی جدوجہد یا آزادی کی تحریک نہیں بلکہ کھلی دہشت گردی، بربریت اور انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردوں کا مقصد کسی حق کی جدوجہد نہیں بلکہ دہشت، نفرت، خونریزی اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ ایسے عناصر لسانی اور علاقائی نفرت کو ہوا دے کر قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، تاہم پوری قوم ان کے مذموم عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ ریاست دشمن عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا پاکستانی شہریوں کے خون کے ہر قطرے کا حساب لیا جائے گا اور اس گھناؤنے جرم میں ملوث ہر دہشت گرد اور اس کے سہولت کار کو قانون کے مطابق انجام تک پہنچایا جائے گا انہوں نے کہا کہ ریاست کی رٹ پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں مزید فیصلہ کن، مؤثر اور بلاامتیاز ہوں گی۔ دہشت گردوں کے لیے بلوچستان کی سرزمین تنگ کر دی جائے گی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی ریاست دہشت گردی کے سامنے نہ کبھی جھکی ہے، نہ جھکے گی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک پوری قوت، قومی عزم اور عوامی حمایت کے ساتھ جاری رہے گی۔

