اسلام آباد(الفجر آن لائن) وفاقی دارالحکومت کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کی تیاری کی جا رہی ہے، جس کے تحت اسلام آباد کے لیے اپنی منتخب اسمبلی، چیف ایگزیکٹو اور 27 انتظامی محکمے قائم کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔مجوزہ ڈرافٹ میں 27 رکنی اسلام آباد اسمبلی کے قیام کی سفارش کی گئی ہے، جس میں 21 ارکان براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کے ہر حلقے سے سات نشستیں رکھنے کی تجویز جبکہ خواتین کے لیے پانچ مخصوص اور اقلیتوں کے لیے ایک نشست مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
مجوزہ گورننس ماڈل کے تحت صحت، تعلیم، ماحولیات، شہری سہولیات اور مقامی حکومتوں سمیت متعدد انتظامی امور منتخب حکومت کے حوالے کرنے کی تجویز ہے، جبکہ قانون و امن اور اسلام آباد کی ماسٹر پلاننگ وفاق کے پاس رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق سی ڈی اے سمیت مختلف اداروں کے اختیارات بھی ازسرنو ترتیب دیے جائیں گے تاکہ دارالحکومت میں اختیارات کے بکھرے ہوئے نظام کو ایک مربوط انتظامی ڈھانچے میں تبدیل کیا جا سکے۔
اسلام آباد کے لیے جامع قانونی فریم ورک اور نئی قانون سازی کی تیاری بھی مجوزہ منصوبے کا حصہ ہے، جس سے وفاقی دارالحکومت کے موجودہ گورننس اور انتظامی نظام میں نمایاں تبدیلی متوقع ہے۔
نئے گورننس ماڈل کی تیاری کے لیے قائم خصوصی کمیٹی میں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر مصدق ملک سمیت سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری کابینہ شامل رہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے مستقبل کے انتظامی نقشے سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی گئی ہے، جبکہ رپورٹ پر حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے۔

