*تحریر: شیخ عبدالرزاق*
بلوچستان میں تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے حکومت کی جانب سے شروع کی گئی اصلاحات اب محض پالیسی اعلانات تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان کے عملی نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت تعلیمی نظام کی بحالی، غیر فعال اسکولوں کو فعال بنانے، اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی دھارے میں لانے، نئے تعلیمی اداروں کے قیام، کلاس رومز کی توسیع، اساتذہ کی کمی دور کرنے اور طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع بڑھانے پر بیک وقت توجہ دی جا رہی ہے۔ ان اصلاحات کا بنیادی مقصد ایک ایسا تعلیمی نظام تشکیل دینا ہے جس میں بلوچستان کا کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے تعلیم کو اپنی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تعلیم محض ایک شعبہ نہیں بلکہ مستقبل کی تعمیر کا بنیادی ذریعہ ہے۔ ان کے نزدیک خواندگی صرف پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت کا نام نہیں بلکہ یہ بچوں کے روشن مستقبل، معاشرتی ترقی، معاشی خودمختاری اور ایک مضبوط و خوشحال معاشرے کی بنیاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی تعلیمی پالیسی کا دائرہ اسکولوں کی بحالی سے لے کر اعلیٰ تعلیم اور وظائف تک وسیع کیا گیا ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران حکومت بلوچستان کی جانب سے 3,800 سے زائد غیر فعال اسکولوں کو دوبارہ فعال کیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس اعتبار سے اہم ہے کہ پہلے سے موجود تعلیمی ڈھانچے کو فعال بنا کر بڑی تعداد میں بچوں کو دوبارہ کلاس رومز تک لایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 7 لاکھ 68 ہزار سے زائد اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔ یہ تعداد تعلیمی اصلاحات کے اس پہلو کو نمایاں کرتی ہے جس میں رسائی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ تعلیمی اداروں کی تعداد اور گنجائش میں اضافے کے لیے بھی بڑے پیمانے پر اقدامات کیے گئے ہیں۔ بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت 2,000 سے زائد نئے اسکول قائم کیے گئے ہیں، جبکہ مزید 1,800 اسکولوں کے قیام کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ اسی طرح 3,000 موجودہ اسکولوں میں اضافی کلاس رومز تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ اس توسیع کا مقصد نہ صرف زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیمی سہولیات فراہم کرنا ہے بلکہ موجودہ اداروں پر طلبہ کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو بھی کم کرنا ہے۔ تعلیمی اصلاحات کا ایک اہم پہلو انسانی وسائل کی فراہمی ہے۔ اسکول کی عمارت، کلاس روم اور دیگر سہولیات اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم معیاری تعلیم کا حقیقی مرکز استاد ہے۔ حکومت بلوچستان نے گزشتہ دو برسوں میں 15 ہزار سے زائد اساتذہ کو میرٹ اور شفاف طریقہ کار کے تحت بھرتی کیا ہے۔ اس اقدام سے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی دستیابی بہتر بنانے اور اسکولوں کی استعدادِ کار میں اضافے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
ان اصلاحات کے مؤثر نفاذ اور حکومتی ترجیحات کو انتظامی سطح پر عملی شکل دینے میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی کاوشیں بھی اہم ہیں۔ صوبائی انتظامیہ کی سطح پر تعلیمی منصوبوں کی پیش رفت، متعلقہ محکموں کے درمیان رابطہ کاری اور حکومتی فیصلوں پر عملدرآمد کو مؤثر بنانے کے لیے انتظامی نگرانی اصلاحات کے تسلسل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وزیراعلیٰ کے وژن کو عملی پروگراموں اور زمینی اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے سیاسی عزم کے ساتھ مضبوط انتظامی عملدرآمد ناگزیر ہے۔ حکومت کی توجہ صرف اسکول کی سطح تک محدود نہیں۔ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے تحت گزشتہ دو برسوں میں مختلف اسکالرشپ اسکیموں کے ذریعے مجموعی طور پر 23,520 وظائف فراہم کیے گئے ہیں۔ ان وظائف کے ذریعے مختلف تعلیمی مراحل سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔ نویں سے دسویں جماعت تک 1,500 وظائف جبکہ شہید بینظیر اسکالرشپ برائے میٹرک ضلعی پوزیشن ہولڈرز کے تحت 969 وظائف دیے گئے۔ انٹرمیڈیٹ پارٹ اوّل کے لیے 1,650، ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کے لیے 2,431 اور ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ کے لیے 552 وظائف فراہم کیے گئے۔ بلوچستان سے باہر بی ایس کی تعلیم کے لیے 4,682 جزوی وظائف جبکہ کیڈٹ ایکسیلنس اسکالرشپ پروگرام کے تحت 150 وظائف دیے گئے۔ کالجز اور یونیورسٹیوں میں بی ایس کے لیے 9,451 جزوی وظائف فراہم کیے گئے، جبکہ سول شہداء کے بچوں کے لیے 590 مکمل وظائف مختص کیے گئے۔تعلیمی مواقع کو مختلف طبقات تک پہنچانے کے لیے ٹرانس جینڈر طلبہ کے لیے 60 وظائف، پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے تحت 898 وظائف اور صادق پبلک اسکول کے لیے 300 وظائف بھی فراہم کیے گئے۔ بیکن نیشنل یونیورسٹی اسکالرشپ پروگرام کے تحت 30 وظائف، سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں میں بیرونِ ملک پی ایچ ڈی کے لیے 6 وظائف، آکسفورڈ پاکستان پروگرام کے تحت ایک اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ اسکالرشپ کے تحت 64 وظائف فراہم کیے گئے۔ اسی طرح وکلاء فنڈ پروگرام کے تحت ایل ایل ایم کے لیے 16 وظائف جبکہ شہید پولیس اہلکاروں کے بچوں کے لیے 161 وظائف فراہم کیے گئے۔
یہ اعداد و شمار اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت کی تعلیمی پالیسی اسکولوں تک رسائی کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھولنے پر بھی مرکوز ہے۔ بلوچستان میں تعلیمی اصلاحات کا یہ عمل ایک وسیع تر وژن کی عکاسی کرتا ہے جس میں اسکولوں کی بحالی، نئے اداروں کا قیام، انفراسٹرکچر کی توسیع، اساتذہ کی بھرتی، اسکول سے باہر بچوں کی واپسی اور اعلیٰ تعلیم کے لیے وظائف کو ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا واضح عزم ہے کہ بلوچستان کا کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے اور صوبے کی نوجوان نسل کو معیاری تعلیم کے ذریعے بااختیار بنایا جائے۔ اس وژن کی کامیابی کے لیے اصلاحات کا تسلسل، مؤثر انتظامی نگرانی اور نتائج پر مبنی عملدرآمد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ایک تعلیم یافتہ بلوچستان ہی ایسا بلوچستان بن سکتا ہے جو معاشی طور پر مضبوط، سماجی طور پر مستحکم اور مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ آج کے تعلیمی اقدامات دراصل آنے والی نسلوں کے مستقبل کی تعمیر ہیں، اور یہی وہ سوچ ہے جسے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے تعلیمی وژن کا بنیادی ستون قرار دیا جا سکتا ہے۔

