بین الاقوامی سطح پر پاکستانی ہوابازی کا اعتماد بحال کرنے کی کوششیں۔
اسلام آباد(الفجرآن لائن) پائلٹ لائسنس اسکینڈل میں پی آئی اے کو200ارب روپے سے زائد نقصان کے ساتھ ساتھ اہم روٹس سے بھی ہاتھ دھونے پڑے،،وزارت ہوابازی نے پائلٹس لائسنس انکوائری کی حتمی رپورٹ تیار کر لی۔
وزارت ہوابازی کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی دور حکومت میں وفاقی وزیر ہوابازی کی جانب سے پی آئی اے کے پائلٹس کے جعلی لائسنسوں کی حوالے سے قومی اسمبلی میں دئیے جانے والے بیان کے بعد پی آئی اے کو اگست 2020 سے دسمبر 2024 تک 200 بلین کا محصولاتی نقصان اٹھانا پڑا، رپور ٹ کے مطابق قومی ائیر لائن برطانیہ کی منافع بخش مارکیٹ کی نکل گئی جس سے قطر، اتحاد اور برٹش ائیرویز سمیت دیگر ائیر لائنز کو براہ راست فائدہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر کے بیان کے بعد141 پائلٹس کو گراونڈ کیا گیا اور اسٹیٹس تصدیق کے بعد تعداد 17 کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق 14 جولائی 2020 میں 6 پائلٹس کے لائسنس منسوخی پر ان کی خدمات ختم کر دی گئیں، رپورٹ کے مطابق پائلٹس نے ائیر نیویگیشن آرڈر اور شرائط کی خلاف ورزی کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق26 جون 2020 کو حکومت نے مشتبہ پائلٹس کو فوری گراونڈ کرنے کی ہدایت کی تھی، رپور ٹ کے مطابق ستمبر 2021 میں مزید 12 پائلٹس کی خدمات اجرت ادائیگی پر ختم کر دی گئیں۔
رپور ٹ کے مطابق کیپٹن یحی مصور اور کیپٹن وسیم اختر لائسنس کی عدم دستیابی پر ڈیوٹی سرانجام نہیں دے سکے، رپور ٹ کے مطابق سو ل ایوی ایشن نے 5 ملازمین کی نشاندہی کی جو امتحان سے متعلق ریکارڈ بے ضابطگیوں مین ملوث تھے، رپور ٹ کے مطابق ملازمین کے خلاف 2021 میں کاروائی کے بعد نوکریوں سے برخاست کیا گیا، رپور ٹ کے مطابق برخاست ہونے والوں میں سیئنر جوائنٹ ڈائریکٹر لائسنسنگ برانچ فیصل منصور شامل تھے، رپورٹ کے مطابق وصاف الحق، سیئنر سپرنٹنڈنٹ لائسنسنگ برانچ عبدالرئیس کو بھی برخاست کیا گیا، رپورٹ کے مطابق ایڈمن لائسنسنگ برانچ عدیل افتاب اور خالد جاوید کو بھی نوکری سے برخاست کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق21 جولائی 2020 کو 12 لائسنس جبکہ 9 ستمبر 2021 کو 6 لائسنس منسوخ کیئے گئے، رپورٹ کے مطابق لائسنس معطلی اور منسوخی پر 18 پائلٹس کو نوکری سے معطل کیا گیا۔
