عدالت عظمی نے نیب مقدمات کے دائرہ اختیار پر اہم فیصلہ سنا دیا نیب کی فوجداری اپیلوں اور زیر التوا درخواستوں کو سننے کا اختیار اب سپریم کورٹ کے پاس نہیں رہا
عدالت کا تمام نیب مقدمات فوری طور پر وفاقی آئینی عدالت منتقل کرنے کا حکم سائلین کی پسند پر فورم طے نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کسی کی رضامندی سے نیا فورم ایجاد کیا جا سکتا ہے، عدالت کے ریمارکس
اسلام آباد(الفجرآن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب مقدمات کے دائرہ اختیار پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کر دیا کہ نیب کی فوجداری اپیلوں اور زیر التوا درخواستوں کو سننے کا اختیار اب سپریم کورٹ کے پاس نہیں رہا۔
عدالت نے تمام نیب مقدمات فوری طور پر وفاقی آئینی عدالت منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔جسٹس محمد علی مظہر نے 30 صفحات پر مشتمل محفوظ شدہ فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ عدالت نے یہ فیصلہ 16 جولائی کو فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ کیا تھا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 175 اور نیب قانون کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت آئینی عدالت ہی نیب مقدمات کے لیے مجاز فورم ہے۔سپریم کورٹ نے نیب اور وفاقی حکومت کا موقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیب کی تمام فوجداری اپیلیں اور زیر التوا درخواستیں اب آئینی عدالت کو منتقل کی جائیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ کسی ایک کیس میں ضمانت سپریم کورٹ سنے اور مرکزی اپیل آئینی عدالت میں ہو، یہ ممکن نہیں۔ ایسے فورمز کا تضاد قانون کے خلاف ہو گا۔فیصلے میں کہا گیا کہ سائل اپنی مرضی یا ترجیح پر قانونی فورم کا انتخاب نہیں کر سکتا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ سائلین کی پسند پر فورم طے نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کسی کی رضامندی سے نیا فورم ایجاد کیا جا سکتا ہے۔ اعتراض نہ اٹھانے کی کوتاہی کے باوجود قانون ہی اختیار سماعت کا تعین کرتا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں سن سکتی ہے، لیکن نیب کیسز کا اختیار اب وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اختیار سماعت کا نکتہ اٹھائے بغیر سنائے گئے فیصلوں کی وجوہات متعلقہ نیب عدالت ہی بتا سکتی ہے

