کوئٹہ (الفجرآن لائن) گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مستونگ میں دہشت گردی کے واقعے میں شہید ہونے والے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی رہائش گاہ کا دورہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے شہید جج کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور فاتحہ خوانی کی، اور شہید کے بیٹوں سمیت دیگر لواحقین سے گہری ہمدردی اور شفقت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزراء، پارلیمانی سیکرٹریز اور اراکین اسمبلی بھی ان کے ہمراہ تھے۔


گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے اس موقع پر شہید جج کے بچوں کے لیے اہم اعلانات کیے۔ واضح رہے کہ شہید جج کا ایک بیٹا محمد حارث بیوٹمز یونیورسٹی میں قانون کا طالب علم ہے جبکہ ان کی بیٹی مومنہ خان بی بی اے کر رہی ہیں۔ گورنر مندوخیل نے اعلان کیا کہ حکومت ان دونوں بہن بھائیوں کی تمام تعلیمی فیسیں معاف کرے گی، جبکہ انہوں نے محمد حارث کو بیوٹمز یونیورسٹی میں ملازمت فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی۔ گورنر نے زور دیا کہ شہید جج عبدالحکیم کاکڑ کی قانون اور انصاف کے لیے گرانقدر خدمات اور قربانی کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان شہداء کے لواحقین کو اس مشکل گھڑی میں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ شہید جج کے بچوں کی کفالت اور تعلیم کے تمام اخراجات حکومت بلوچستان خود برداشت کرے گی تاکہ ان کا مستقبل متاثر نہ ہو۔ میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ شہید عبدالحکیم کاکڑ نے قانون کی بالادستی اور انصاف کے نظام کی خدمت کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، اور تاریخ میں انہیں ہمیشہ سنہری الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے دہشت گردی کے خلاف سخت عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے امن، ترقی اور ریاستی اداروں کو نقصان پہنچانے کی ہر سازش ناکام بنائی جائے گی اور امن دشمن عناصر کو قانون کے مطابق ان کے انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعد ازاں، وزیراعلیٰ نے مقامی اسپتال کا دورہ بھی کیا، جہاں انہوں نے حملے میں زخمی ہونے والے ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری کی عیادت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اگر آپ اس خبر میں کسی خاص سیکشن کی سرخی

