کراچی (الفجرآن لائن )آغا خان اسپتال کراچی کے طبی ماہرین نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں تیزاب گردی کے افسوسناک واقعے میں متاثر ہونے والی لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو بروقت کراچی منتقل کیے جانے کے باعث کسی بھی اہم عضو کو شدید اور ناقابل تلافی نقصان پہنچنے سے بچایا جا سکا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو دی گئی طبی بریفنگ میں اسپتال کے ماہرین نے بتایا کہ تیزاب سے متاثرہ مریضوں کے علاج میں وقت انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ ایسڈ برنز میں جسم پر اثرات تیزی سے مرتب ہوتے ہیں اور فوری طبی مداخلت نہ ہونے کی صورت میں زخموں کی شدت بڑھ سکتی ہے طبی ماہرین کے مطابق عام جلنے کے واقعات کے برعکس تیزاب سے ہونے والے زخموں میں ردعمل ظاہر کرنے کے لیے وقت بہت محدود ہوتا ہے، اس لیے متاثرہ مریض کو جلد از جلد خصوصی طبی سہولیات سے آراستہ مرکز تک پہنچانا ناگزیر ہوتا ہے۔
ماہرین نے واضح کیا کہ لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر کی بروقت کراچی منتقلی اور فوری طبی نگہداشت علاج کے عمل میں فیصلہ کن ثابت ہوئی آغا خان اسپتال کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ نے بریفنگ کے دوران اس امر کی نشاندہی کی کہ اگر متاثرہ مریضہ کو فوری طور پر خصوصی علاج کے مرکز منتقل نہ کیا جاتا تو تیزاب کے اثرات جسم کے اہم اعضاء کو زیادہ نقصان پہنچا سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بروقت طبی رسپانس اور فوری منتقلی کی بدولت ممکنہ پیچیدگیوں کو کم کرنے میں مدد ملی اور کسی عضو کے ضائع ہونے کے خطرات سے بچاؤ ممکن ہوا۔
طبی ماہرین نے حکومت بلوچستان کی جانب سے پیپلز ایئر ایمبولینس کے ذریعے متاثرہ مریضہ کی فوری منتقلی کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی طبی حالات میں تیز رفتار فضائی منتقلی مریضوں کی جان بچانے اور سنگین طبی نقصانات سے محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے ماہرین نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کی حالت بتدریج بہتر ہو رہی ہے اور انہیں جدید طبی سہولیات اور ماہر معالجین کی نگرانی میں علاج فراہم کیا جا رہا ہے
انھوں نے امید ظاہر کی کہ علاج اور بحالی کا عمل مثبت انداز میں جاری رہے گا طبی ماہرین کے مطابق اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ ہنگامی حالات میں بروقت طبی رسپانس، فوری منتقلی اور جدید طبی سہولیات تک فوری رسائی مریضوں کی جان بچانے اور مستقل جسمانی نقصان سے محفوظ رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
