ٹیکلوبان سٹی (ویب ڈیسک)وسطی فلپائن کے ایک ہائی اسکول میں دو نوجوان طلبہ کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 3 طلبہ ہلاک اور 7 شدید زخمی ہو گئے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں نو عمر حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا ہے۔ فلپائنی حکام نے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ ہولناک واقعہ صوبہ لیتے کے شہر ٹیکلوبان میں واقع ‘سان ہوسے نیشنل ہائی اسکول’ میں پیش آیا۔ صبح تقریباً 9:00 بجے، جب کلاسز جاری تھیں، 14 اور 15 سال کے دو مسلح طلبہ نے اسکول کے اندر داخل ہو کر کلاس رومز پر اندھا دھند گولیاں برسا دیں۔ فائرنگ کے وقت اسکول میں 1500 سے زائد طلبہ موجود تھے، جس کے باعث وہاں شدید بھگدڑ مچ گئی اور خوف و ہراس پھیل گیا۔
فلپائن نیشنل پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق، اس لرزہ خیز اقدام کے پیچھے اسکول میں ہونے والی ‘بلینگ’ (ہراساں کرنا) اور ساتویں جماعت سے چلی آرہی ذاتی دشمنی ہے۔ ملزمان طویل عرصے سے اپنے ہم جماعتوں کے رویے سے نالاں تھے۔ چونکہ دونوں حملہ آور قانوناً نابالغ ہیں، اس لیے انہیں مزید کارروائی کے لیے مقامی سوشل ویلفیئر حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
تحقیقاتی ٹیم کے مطابق حملہ آوروں کے قبضے سے ایک گلاک پستول اور ایک .38 کیلیبر کا ریوالور برآمد ہوا ہے۔ سیکیورٹی اداروں کے لیے سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ گلاک پستول ایک خاتون پولیس اہلکار کی تھی، جو ملزم کی قریبی رشتہ دار بتائی جاتی ہے، جبکہ دوسرا اسلحہ ایک نجی سیکیورٹی ایجنسی کے نام رجسٹرڈ تھا۔ جائے وقوعہ سے گولیوں کے 40 خالی خول بھی ملے ہیں۔
فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری اور شفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ صدارتی اعلامیے کے مطابق ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں کے ارد گرد پولیس کی گشت اور سیکیورٹی بڑھانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ وزارتِ تعلیم نے اس واقعے کو ‘ہائی الرٹ سچویشن’ قرار دیتے ہوئے متاثرہ اسکول میں طلبہ اور اساتذہ کے لیے ٹروما کونسلنگ ٹیمیں روانہ کر دی ہیں۔
