بیانلاس ویگاس(الفجر آن لائن)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ ایران نے اس وقت مذاکرات کی درخواست کی جب امریکا ایک بڑے فوجی حملے کی تیاری مکمل کر چکا تھا، مسلسل عسکری دبا ؤکے باعث تہران دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے پر آمادہ ہوا۔
ریاست نیواڈا کے شہر لاس ویگاس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑے حملے کی تیاری کر رہا تھا کہ اسی دوران ایرانی حکام نے رابطہ کیا، انہوں نے مجھے فون کیا اور کہا کہ براہ کرم ایسا نہ کریں، آئیے! بات کرتے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ وہ مزید فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم امریکا کے بنیادی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، میں معاہدہ کرنا پسند کروں گا کیونکہ میں لوگوں کو مارنا نہیں چاہتا، لیکن ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کیلئے مکمل طور پر کھولنے سے متعلق مذاکرات جاری ہیں۔
دریں اثنا امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا کے پاس بڑے پیمانے پر اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر موجود ہیں۔ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بڑے پیمانے پر اسلحہ تیار بھی کیا جا رہا ہے اور ضرورت کے مطابق منگوایا بھی جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ دفاعی کمپنیاں ریکارڈ تعداد میں پلانٹس اور فیکٹریاں تعمیر کر رہی ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ غداری پر مبنی بیانات لیک کرنے والوں کو تلاش کر کے طویل سزائیں دیں گے۔

