کوئٹہ(الفجر آن لائن)صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ تاجر برادری معاشرے کا ایک اہم ستون ہے اور ان کے مسائل کا حل حکومت کی اولین ذمہ داری ہے پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی اور جمہوری حق ہے، اسی لیے حکومت نے تاجروں کے احتجاج کے بعد ان کے نمائندوں سے مذاکرات کیے اور ان کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنا شہداء زیارت کمیٹی میں آل پارٹیز کے رہنماء شریک تھے جس میں لیویز کی بحالی کے لیے حوالے سے مذاکرات میں ذکر نہیں ہوا تاہم اس پر اتفاق ہوا کہ تمام پارٹیاں ایک کمیٹی بنا کر اس پر کام کرے گی۔
بلوچستان کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش نہ کی جائے کیونکہ سوشل میڈیا پر بے بنیاد اور جعلی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں صوبے میں بدامنی کے پیچھے بھارت اور افغانستان کے عناصر ملوث ہیں، جبکہ دہشت گرد ہر موقع پر امن خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں حکومت اور انجمن تاجران بلوچستان کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے پر 7اور8اگست کوئٹہ میں شٹرڈاؤن ہڑتال موخر کردیاگیا۔
‘یہ بات انہو ں نے انجمن تاجران بلوچستان کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی‘اس موقع پر وزیر داخلہ کے معاون خصوصی بابر یوسفزئی‘ایڈمنسٹریٹر میٹروپولٹین کارپوریشن میجر(ر) بشیر احمد بڑیچ‘ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی‘انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم آغا ودیگر بھی موجود تھے‘میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے تاجروں کے مسائل کے حل کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے۔
جس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور ایڈمنسٹریٹر کوئٹہ سمیت متعلقہ حکام شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی تاجروں کے تحفظات اور مطالبات کا جائزہ لے کر ان کے جلد از جلد حل کو یقینی بنائے گی‘انہوں نے کہا کہ تاجروں کے تمام جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور حکومت تاجر برادری کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش نہ کی جائے کیونکہ سوشل میڈیا پر بے بنیاد اور جعلی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں بدامنی کے پیچھے بھارت اور افغانستان کے عناصر ملوث ہیں، جبکہ دہشت گرد ہر موقع پر امن خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے تمام عوام کا مطالبہ ہے کہ قومی شاہراہوں کو محفوظ بنایا جائے، اور حکومت اس مقصد کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں ضرورت پڑی وہاں کرفیو نافذ کیا جائے گا اور آپریشن بھی کیا جائے گا تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے‘میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ جرائم میں ملوث ملزمان واردات کے بعد اپنے گھروں میں نہیں بیٹھتے۔
اس لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے جدید انداز میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خضدار میں اسماء جتک کے والد کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گاانہوں نے مزید کہا کہ شہداء زیارت کمیٹی میں آل پارٹیز کے رہنما بھی شامل تھے۔
لہٰذا اس معاملے پر غیر ضروری سیاست سے گریز کیا جانا چاہیے‘ وزیر داخلہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان تاجروں کے مسائل کے حل، امن و امان کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی‘اس موقع پر انجمن تاجران بلوچستان (رجسٹرڈ) کے صدر رحیم آغا نے کہا کہ حکومت کے ساتھ ہونے
والے مذاکرات مثبت رہے ہیں اور آج ہم ایک نتیجے پر پہنچ چکے ہیں انہوں نے بتایا کہ حکومت نے 986 دکانداروں اور حلیم پلازہ سے متعلق مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی ہے، جس پر تاجر برادری نے اعتماد کا اظہار کیا ہے رحیم نے کہا کہ حکومتی یقین دہانی کے بعد 7 اور 8 اگست کو اعلان کردہ شٹر ڈاؤن ہڑتال موخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اپنے وعدوں پر عمل کرتے ہوئے تاجروں کے مسائل جلد حل کرے گی۔

