زندگی کے ابتدائی اور نہایت اہم برسوں میں اسکرین کا سامنا پوری نسل کی مستقبل کی صحت اور معیارِ زندگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے‘محققین
لیڈز(الفجرآن لائن)ماہرین نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ 2 سال سے کم عمر بچوں کو موبائل، ٹیبلٹ، ٹی وی یا دیگر اسکرینز کے سامنے بٹھانا ان کی صحت اور نشوونما پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔یونیورسٹیز آف لیڈز کے محققین نے ایک جامع جائزہ لیا، جس میں معلوم ہوا کہ کم عمری میں اسکرین کے سامنے وقت گزارنے سے بچوں کی مجموعی صحت اور معیارِ زندگی متاثر ہو سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق اسکرین ٹائم سے جن مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، ان میں زبان سیکھنے اور بولنے کی صلاحیت کی رفتار سست ہونا، نیند کے مسائل اور بے قاعدگی، آنکھوں کی صحت متاثر ہونا اور موٹاپے کے خطرات میں اضافہ شامل ہے۔محققین نے یہ بھی بتایا کہ اسکرین کے زیادہ استعمال سے دیگر منفی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں، جن میں بچے کا حد سے زیادہ ذہنی طور پر متحرک (Overstimulated) ہو جانا، جذبات کو سنبھالنے کے لیے ڈیجیٹل ڈیوائسز پر انحصار بڑھ جانا، والدین کے ساتھ تعلق اور وقت گزارنے کے مواقع کم ہونا، ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیلنے اور سماجی مہارتیں سیکھنے کے مواقع محدود ہونا شامل ہیں۔تحقیق کے مرکزی محقق ریف کلیٹون نے کہا ہے کہ زندگی کے ابتدائی اور نہایت اہم برسوں میں اسکرین کا سامنا پوری نسل کی مستقبل کی صحت اور معیارِ زندگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
