امریکہ ( ویب ڈیسک) ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف کمپنی ایپل () نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس () کے سب سے بڑے ادارے اوپن اے آئی () کے خلاف ایک بڑا وفاقی مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ ایپل کا الزام ہے کہ اوپن اے آئی نے اس کے اہم ہارڈویئر کے خفیہ ڈیزائن اور تجارتی راز چوری کیے ہیں تاکہ وہ اپنے نئے آئی ٹولز اور ڈیوائسز تیار کر سکے۔ یہ مقدمہ کیلیفورنیا کی عدالت میں دائر کیا گیا ہے جس نے ٹیک انڈسٹری میں ہلچل مچا دی ہے۔
ایپل نے اپنے عدالتی دعوے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اوپن اے آئی نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایپل کے ماہر انجینئرز کو اپنی طرف راغب کیا اور نوکری چھوڑنے والے ملازمین پر دباؤ ڈالا کہ وہ کمپنی کے سیکیورٹی نظام کو بائی پاس کر کے خفیہ فائلیں اور پروٹوٹائپ چوری کریں۔ ایپل کے مطابق اوپن اے آئی کا ہارڈویئر ڈپارٹمنٹ مکمل طور پر چوری شدہ معلومات پر کام کر رہا ہے۔
اس مقدمے میں ایپل کے سابق چیف ہارڈویئر ڈیزائنر ٹینگ یو ٹین (Tang Yew Tan) اور الیکٹریکل انجینئر چانگ لیو پر بنیادی الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ الزام ہے کہ ان ملازمین نے نوکری چھوڑنے سے پہلے آئی فون اور ایپل واچ کے ڈیزائن سے متعلق انتہائی خفیہ فائلیں اپنے ذاتی اکاؤنٹ پر منتقل کیں اور اوپن اے آئی کے انٹرویوز کے دوران ایپل کے غیر ریلیز شدہ پرزے بھی دکھائے۔
ایپل نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اوپن اے آئی کو ان کے خفیہ ڈیزائن استعمال کرنے سے فوری طور پر روکا جائے اور بھاری مالی ہرجانہ ادا کیا جائے۔ دوسری جانب اوپن اے آئی نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں کسی دوسری کمپنی کے تجارتی رازوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور وہ اپنی منفرد ٹیکنالوجی بنانے پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قانونی جنگ کی وجہ سے اوپن اے آئی کی نئی ڈیوائسز کی مارکیٹ میں آمد تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے

