دھرنے کی حمایت میں احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان
پہلے مرحلے میں کل تین اضلاع میں مظاہرے ہوں گے، رحیم زیارتوال
کوئٹہ(نیوز ایجنسی)زیارت کے علاقے مانگی فیز تھری میں دہشت گرد حملے میں پولیس اہلکاروں اور دیگر افراد کی شہادت کے خلاف کوئٹہ کے
کوئلہ پھاٹک پر جاری احتجاجی دھرنا تیسرے روز میں داخل ہو گیا۔
دھرنے کے شرکا نے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اور موثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
جبکہ گزشتہ رات حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور دھرنا قیادت کے درمیان مذاکرات کا ایک اہم دور بھی منعقد ہوادھرنے کی قیادت کرنے والے رہنما رحیم زیارتوال نے نیوز ایجنسی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ رات مذاکراتی کمیٹی کے سامنے دھرنے کے شرکا کی جانب سے پانچ نکاتی مطالبات پیش کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ان مطالبات میں زیارت سانحے کی جوڈیشل تحقیقات، علاقے سے مسلح افراد کی بے دخلی، شہدا کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی، امن و امان کی مثر بحالی اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی جیسے اہم نکات شامل ہیں۔
رحیم زیارتوال نے کہا کہ مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے تاہم تمام مطالبات پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا، جس کے باعث مزید بات چیت آئندہ نشست میں جاری رکھی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ احتجاجی کمیٹی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتی، لیکن مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا انہوں نے اعلان کیا کہ دھرنے کی حمایت میں احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جا رہا ہے تاکہ زیارت سانحے کے متاثرین کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے اور حکومت پر عوامی دبا بڑھایا جا سکے۔
ان کے مطابق تحریک کے پہلے مرحلے میں 12 جولائی بروز اتوار کو قلعہ سیف اللہ، پشین اور لورالائی میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے، احتجاجی تحریک کو مرحلہ وار پورے بلوچستان تک توسیع دی جائے گی اور اس حوالے سے جلد آئندہ مرحلے کے پروگرام کا اعلان بھی کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک دھرنا نہیں بلکہ امن، انصاف اور عوام کے تحفظ کی جدوجہد ہے انہوں نے بتایا کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی اور دیگر سیاسی و جمہوری جماعتوں کے قائدین جلد مشترکہ اجلاس کے بعد باقاعدہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے

