نئی دہلی(الفجرآن لائن) دباؤ کے بعد بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد ہفتوں سے جاری نوجوانوں کی ملک گیر احتجاجی تحریک نے اپنی بڑی کامیابی کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ استعفیٰ میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور سرکاری بھرتیوں میں بے ضابطگیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے عوامی غم و غصے کے بعد سامنے آیا ہے۔
استعفیٰ کی خبر عام ہوتے ہی نئی دہلی کے تاریخی احتجاجی مقام جنتر منتر پر ہزاروں طلبہ اور نوجوان جمع ہو گئے، جہاں انہوں نے رقص کر کے اور فتح کے نعرے لگا کر جشن منایا۔ اس ملک گیر احتجاجی تحریک کی قیادت کرنے والی نوجوانوں کی تنظیم ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کے بانی ابھیجیت دیپکے نے اسے طلبہ کی تاریخی جیت قرار دیتے ہوئے باقاعدہ طور پر احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ امتحانی نظام میں بدعنوانی کے خلاف یہ احتجاج مغربی بنگال، تلنگانہ، کرناٹک اور تامل ناڈو سمیت کئی ریاستوں تک پھیل چکا تھا۔ گزشتہ دنوں پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے والے طلبہ پر پولیس کے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا تھا، جس کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کو شدید سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
وزیر اعظم مودی کو لکھے گئے اپنے استعفیٰ میں دھرمیندر پردھان نے موقف اختیار کیا کہ وہ ملک گیر بے چینی کو ختم کرنے اور تعلیمی نظام کے وقار کو بچانے کے لیے عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔ مودی حکومت کے 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک کسی عوامی احتجاج کے نتیجے میں کسی وزیر کا استعفیٰ دینا ایک انتہائی نادر سیاسی واقعہ سمجھا جا رہا ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے طلبہ پر تشدد کرنے والے پولیس حکام کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے

