کوئٹہ (الفجرآن لائن) حکومتِ بلوچستان نے صوبے میں تکنیکی تعلیم کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ایک انقلابی انتظامی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، بلوچستان گورنمنٹ رولز آف بزنس 2012ء اور ترمیمی ایکٹ 2026ء کے تحت صوبے کے تمام پبلک سیکٹر ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ اداروں کا کنٹرول اب ‘بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی’ کو سونپ دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ڈائریکٹوریٹ آف مین پاور ٹریننگ، محکمہ صنعت و تجارت، اور ہائر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن کے زیرِ انتظام چلنے والے تمام پولی ٹیکنک، مونو ٹیکنک انسٹی ٹیوٹس اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی اب کے ریگولیٹری اور آپریشنل کنٹرول میں کام کریں گے۔ مزید برآں، ختم کیے گئے بلوچستان بورڈ آف ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن کے تمام اثاثے اور ریکارڈ بھی نئی اتھارٹی کو منتقل کر دیے گئے ہیں، جبکہ ملازمین کے سروس سٹرکچر، مین پاور اور مالیاتی امور کی نگرانی حکومتِ بلوچستان کا محکمہ محنت و افرادی قوت کرے گا

