کوئٹہ (الفجرآن لائن): وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عالمی یوم اساتذہ کے موقع پر صوبے بھر کے اساتذہ کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اساتذہ معاشرے کی تعمیر، نئی نسل کی کردار سازی اور مستقبل کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت بلوچستان اساتذہ کے پیشہ ورانہ وقار اور بہتر تدریسی ماحول کے لیے اقدامات جاری رکھے گی کیونکہ معیاری تعلیم کے لیے اساتذہ کو بااختیار بنانا اور ان کے پیشہ ورانہ مقام کا تحفظ ناگزیر ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے صوبے میں تعلیمی شعبے میں ہونے والی نمایاں ترقی کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ دو برس کے دوران بلوچستان میں 7 لاکھ 86 ہزار سے زائد بچوں کو تعلیمی نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔ سال 2025 میں 2 لاکھ 31 ہزار جبکہ 2026 میں اب تک 2 لاکھ 81 ہزار بچوں کا اسکولوں میں داخلہ یقینی بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے کمیونٹی اسکولوں کے ذریعے 1 لاکھ 54 ہزار بچوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ غیر فعال اسکولوں کو فعال بنا کر 95 ہزار سے زائد بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام میں واپس لایا گیا ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے مزید بتایا کہ بلوچستان میں تدریسی عمل کو مضبوط بنانے کے لیے 15 ہزار سے زائد اساتذہ کو میرٹ پر بھرتی کیا گیا ہے۔ صوبے میں تعلیمی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت 2 ہزار سے زائد نئے اسکول قائم کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید 1,800 اسکولوں کے قیام پر کام تیزی سے جاری ہے۔صوبے میں اسکولوں کی حالت زار بدلنے کے لیے پی ٹی ایس ایم سی (PTSMC) منصوبہ بھی کامیابی سے جاری ہے، جس کی مجموعی تخمینی لاگت 6 ارب روپے ہے۔ اس منصوبے کے تحت فی الحال 2 ہزار اسکولوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جہاں مجموعی طور پر 3,640 کلاس رومز تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ ایک کمرے والے اسکولوں میں اضافی کلاس رومز کی تعمیر کا کام بھی جاری ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ بچوں کے بہتر مستقبل اور تعلیم پر سرمایہ کاری دراصل بلوچستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے اور حکومت کا مقصد ہر اسکول کو فعال بنانا اور ہر بچے

