واشنگٹن(الفجر آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسٹریٹجک اہمیت کے حامل بحری راستے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) پر اب امریکہ کا مکمل کنٹرول قائم ہو چکا ہے، جس کے بعد انہوں نے اس کا نام تبدیل کر کے "آبنائے ٹرمپ” (Trump Strait) رکھنے کی متنازع تجویز پیش کر دی ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے اپنے مخصوص طنزیہ انداز میں لکھا، "اب جب کہ ہم نے اسے (آبنائے ہرمز) امریکی کنٹرول میں لے لیا ہے، تو کیا ہمیں اس کا نام تبدیل کر کے آبنائے ٹرمپ رکھ دینا چاہیے؟”
انہوں نے مزید لکھا کہ نام کی اس تبدیلی سے یہ خطہ امریکہ کی طرح مزید "ہاٹ” ہو جائے گا۔ فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی ایک ناکام کوشش کے جواب میں بڑی کارروائی کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی فضائی حملوں میں ایران کے نئے فوجی ساز و سامان کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد اب بحری جہازوں کو دھمکانے کی ایرانی صلاحیت انتہائی کم ہو چکی ہے اور یہ اہم تجارتی راستہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھل گیا ہے۔
مریکی حکام کے مطابق واشنگٹن گزشتہ دو ماہ کے دوران خطے کا توازن تبدیل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
ایرانی بندرگاہوں کے سخت فوجی محاصرے اور تیل کی فروخت روکنے کی پابندیوں کے بعد، امریکہ کو اب تہران کے خلاف مذاکرات کی میز پر ایک انتہائی مضبوط پوزیشن حاصل ہو چکی ہے۔
دوسری جانب، ایران نے امریکہ کے کنٹرول کے ان تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے، جبکہ دو سابقہ جنگ بندی معاہدوں کی ناکامی کے بعد خطے میں تاحال شدید فوجی کشیدگی برقرار ہے۔

