اسلام آباد ( الفجر آن لائن) دیامر بھاشا ڈیم کے 4,500 میگاواٹ بجلی1 پیدا کرنے والے منصوبے کی منسوخی سے متعلق خبروں کو وزارت (اقتصادی امور نے بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ
حکومت نے ڈیم کی بجلی پیدا کرنے کی سہولیات منسوخ نہیں کیں وزارت اقتصادی امور کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم بدستور پاکستان کا ایک قومی ترجیحی منصوبہ ہے اور اس میں پانی ذخیرہ کرنے کے ساتھ پن بجلی کی پیداوار بھی منصوبے کا اہم حصہ ہے۔
وزارت اقتصادی امور کی جانب سے جاری وضاحت میں کہا گیا ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم کے پاور جنریشن منصوبے کی منسوخی سے متعلق خبریں بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔
حکومت نے ڈیم کی ہائیڈرو پاور سہولیات ختم کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔وزارت کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم پر پانی ذخیرہ کرنے کے ساتھ پن بجلی کی پیداوار بھی منصوبے کا بنیادی اور اہم جزو ے۔
ڈیم سے متعلق ہائیڈرو پاور منصوبے پر واپڈا اور متعلقہ وفاقی وزارتوں کے ساتھ منصوبہ بندی کا عمل جاری ہے۔
وزارت اقتصادی امور نے واضح کیا کہ حکومت دیامر بھاشا ڈیم اور اس سے منسلک پن بجلی کی سہولیات کی تکمیل کے لیے پْرعزم ہے۔ منصوبے کی تکمیل پاکستان کی مستقبل کی آبی اور توانائی سلامتی کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔
وزارت کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم قومی سطح پر ترجیحی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے، جس سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہونے کے ساتھ ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر متعلقہ اداروں کے درمیان مشاورت اور منصوبہ بندی جاری ہے، جبکہ ہائیڈرو پاور حصے سے متعلق اقدامات بھی اسی مجموعی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔
وزارت اقتصادی امور نے عوام اور ذرائع ابلاغ سے اپیل کی ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم سے متعلق معلومات کے لیے صرف سرکاری اور مستند ذرائع پر اعتماد کیا جائے اور غیر مصدقہ خبروں کی بنیاد پر رائے قائم کرنے سے گریز کیا جائے۔

