اسلام آباد (الفجرآن لائن)۔بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام () کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد سے ملاقات کی ہے۔ اس اہم ملاقات کی قیادت گیٹس فاؤنڈیشن کے جینڈر ایکویلٹی ڈویژن کی صدر ڈاکٹر انیتا زیدی نے کی۔ ملاقات کا بنیادی مقصد بی آئی ایس پی کی مستحق خواتین اور ان کے خاندانوں کے لیے سماجی تحفظ کے جاری اقدامات کو مزید بہتر اور مؤثر بنانا تھا۔ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے خواتین بینیفشریز میں ڈیجیٹل اور مالیاتی خواندگی کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ اس کے ساتھ ہی زچہ و بچہ کی صحت اور ویکسینیشن کے حوالے سے آگاہی مہم تیز کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ اس سلسلے میں ملک بھر کے 10 منتخب اضلاع میں ابتدائی طور پر ایک پائلٹ منصوبہ شروع کرنے کی تجویز پر تفصیلی غور کیا گیا، جس کے ذریعے ان اہداف کو حاصل کیا جائے گا۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے وفد کو پروگرام کی اب تک کی کامیابیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ادارے کو تیزی سے ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اب تک 97 لاکھ مستحق خواتین کو ڈیجیٹل والٹ کے استعمال کے لیے مفت موبائل سمز جاری کی جا چکی ہیں۔ روبینہ خالد کا کہنا تھا کہ "بینظیر نشوونما پروگرام” کے تحت اب تک 21 لاکھ سے زائد خواتین اور بچے فائدہ اٹھا چکے ہیں، اور ملک بھر میں قائم نشوونما مراکز کو زچہ و بچہ کی صحت اور ویکسینیشن کی رہنمائی کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سینیٹر روبینہ خالد نے غریب خاندانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "بینظیر ہنرمند پروگرام” کے ذریعے مستحقین اور ان کے بچوں کو مختلف شعبوں میں فنی مہارتیں (سکل ٹریننگ) فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے یہ خاندان مستقل طور پر غربت کے چکر سے نکلنے کے قابل ہو جائیں گے۔ملاقات کے اختتام پر ڈاکٹر انیتا زیدی نے بی آئی ایس پی میں ہونے والی ڈیجیٹل تبدیلیوں کی تعریف کی اور اسے ایک بہترین پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے ماں اور بچے کی صحت کے تحفظ اور بالخصوص "ہنرمند پروگرام” کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبے معاشرے کے پسماندہ طبقات کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں

