Iran-US tensions intensify as the security situation around the Strait of Hormuz raises concerns over regional stability and global energy supplies.
تہران/واشنگٹن:(الفجر آن لائن ) ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ میں ایک بار پھر شدید کشیدگی پیدا ہوگئی ہے اور آبنائے ہرمز کے اطراف بحری جہازوں پر حملوں کے بعد خطے میں فوجی تصادم کے دائرہ کار کے مزید وسیع ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق ایران کے ساحلی علاقوں میں بھی دھماکوں اور میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ دوسری جانب واشنگٹن نے ایرانی آئل ٹینکرز کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق جمعرات کی صبح جنوبی ساحلی علاقوں سیریک، میناب اور قشم میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ سرکاری ایرانی خبر رساں ادارے نے سیریک کے مختلف علاقوں میں ’’دشمن کے پروجیکٹائل‘‘ گرنے کی اطلاع دی ہے۔ ابتدائی رپورٹس میں حملوں کی مکمل نوعیت یا نقصانات کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آسکی۔
اس سے ایک روز قبل ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں دو امریکی بحری جہاز اور آٹھ آئل ٹینکرز شامل تھے۔ تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے امریکی بحری جہازوں کو نقصان پہنچنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تمام حملہ آور کوششیں ناکام رہیں۔
یہ کارروائیاں امریکا کی جانب سے پانچ ایرانی آئل ٹینکرز کو تباہ کیے جانے کے بعد سامنے آئیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایرانی فورسز کی جانب سے امریکی بحری جنگی جہاز کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کے جواب میں کی گئی۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ اگر ایران امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بناتا رہا تو واشنگٹن ایرانی ٹینکرز کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔
آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کردی ہے۔ برطانوی میری ٹائم سکیورٹی حکام کے مطابق خلیج اور بحیرۂ عمان میں متعدد تجارتی جہازوں کو نقصان پہنچنے یا انہیں غیر فعال کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ عراق کے ساحلی پانیوں میں دو ملین بیرل فیول آئل لے جانے والا ایک ٹینکر بھی ڈرون حملے کے بعد آگ کی زد میں آیا، تاہم عملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے اور جنگ سے قبل دنیا کی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ اس راستے سے گزرتا تھا۔ حالیہ لڑائی کے بعد اس راستے سے تیل کی ترسیل میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔
کشیدگی کے باوجود سفارتی راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ ایرانی وزارت خارجہ نے علاقائی ممالک کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیج اور بحیرۂ عمان میں پائیدار سکیورٹی ساحلی ممالک کے باہمی تعاون کے ذریعے قائم ہونی چاہیے اور اس میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد نہیں کیا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی ترجیحات صرف ایران کے جوہری پروگرام تک محدود نہیں ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جنگ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ختم ہوسکتی ہے، جبکہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران پر اقتصادی دباؤ برقرار رکھنے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ بھی مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز نے ایران کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک پہنچانے کی قرارداد منظور کرلی ہے۔ قرارداد کے حق میں 23 ارکان نے ووٹ دیا، جبکہ روس اور چین سمیت بعض ممالک نے مخالفت یا عدم شرکت کا راستہ اختیار کیا۔ ایران نے اس اقدام کو سیاسی قرار دیتے ہوئے اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن قرار دیا ہے۔

