Rising tensions between Saudi Arabia and the Houthis as missile and drone attacks intensify.
ریاض/صنعا: (الفجر آن لائن )یمن میں حوثی جنگجوؤں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے اور سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر مسلسل دوسرے روز میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی تصادم کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان کے مطابق حوثیوں نے بدھ کے روز سعودی عرب کے جنوبی شہروں ابہا، خمیس مشیط اور جازان کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں قومی اثاثوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور فوجی تنصیبات کو ہدف بنانے کی کوشش کی گئی۔
یہ حملے ایک روز قبل ہونے والے شدید حملوں کے بعد کیے گئے، جن کے نتیجے میں سعودی حکام کے مطابق 73 افراد زخمی ہوئے جبکہ توانائی سے متعلق بعض تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی اور کچھ مقامات پر آپریشنز عارضی طور پر متاثر ہوئے۔ سعودی عرب نے ان حملوں کو خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے ملکی خودمختاری، شہریوں اور قومی تنصیبات کے تحفظ کے لیے جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب حوثی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سعودی حمایت یافتہ فورسز نے یمن کے مختلف علاقوں میں درجنوں فضائی حملے کیے۔ حوثی ذرائع کے مطابق سعودی فضائی کارروائیوں میں متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، تاہم سعودی حکام نے ان دعوؤں کی مکمل طور پر تصدیق نہیں کی۔
موجودہ کشیدگی نے 2022 میں قائم ہونے والی جنگ بندی کے بعد یمن کی صورتحال کو ایک بار پھر انتہائی حساس بنا دیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ حوثیوں کے سعودی عرب کے خلاف حملوں نے تنازع کو یمن کی حدود سے باہر خلیجی سلامتی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے تک پھیلا دیا ہے۔
اقوام متحدہ نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے کشیدگی کو مزید وسیع کر سکتے ہیں، شہریوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں اور یمن میں سیاسی حل کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن نے حوثیوں پر زور دیا ہے کہ وہ سعودی عرب اور یمن کے اندر حملے روکیں۔
صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی ہے کیونکہ حوثیوں کی کارروائیاں بحیرۂ احمر اور خلیجی تجارتی راستوں کی سلامتی سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔ اگر سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جوابی کارروائیاں مزید بڑھتی ہیں تو اس کے اثرات یمن اور سعودی عرب تک محدود رہنے کے بجائے پورے خلیجی خطے، توانائی کی عالمی سپلائی اور بین الاقوامی بحری تجارت تک پھیل سکتے ہیں۔
فی الحال سعودی عرب نے اپنی دفاعی تیاریوں میں اضافہ کرتے ہوئے حوثی حملوں کا جواب دینے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ حوثیوں کی جانب سے بھی مزید کارروائیوں کی دھمکیاں سامنے آ رہی ہیں۔ یوں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان حالیہ کشیدگی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں ایک محدود فوجی جھڑپ کے وسیع تر علاقائی بحران میں تبدیل ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

