کوئٹہ (الفجرآن لائن) بلوچستان فوڈ اتھارٹی (بی ایف اے) نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ملاوٹی اور غیر معیاری دودھ و دہی کی فروخت کے خلاف اپنی خصوصی مہم کے دوسرے روز بھی بھرپور کارروائیاں جاری رکھیں۔ صوبائی وزیر اور چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی خصوصی ہدایات پر فیلڈ سیفٹی ٹیموں نے شہر کے مختلف حصوں میں ناکہ بندی اور اسنیپ چیکنگ کے ذریعے ملاوٹ مافیا کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا ہے۔آپریشن کے دوران فوڈ سیفٹی ٹیموں نے رئیسانی روڈ، ملحقہ علاقوں اور نواں کلی بائی پاس میں دودھ کی دکانوں، ملک سپلائرز، دودھ بردار گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، رکشوں اور دیگر مشتبہ مقامات کی کڑی نگرانی کی۔ جدید موبائل لیبارٹریز کی مدد سے موقع پر ہی دودھ کے معیار کی سائنسی جانچ کی گئی۔ اس مہم کے دوران مجموعی طور پر 11,590 لیٹر دودھ کا معائنہ کیا گیا، جس میں سے پانی کی آمیزش اور اسکمڈ ملک کی ملاوٹ ثابت ہونے پر 2,120 لیٹر مضرِ صحت دودھ کو موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔
بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے فوڈ بزنس آپریٹرز کے خلاف فوری اور سخت قانونی ایکشن لیا۔ فیلڈ آپریشنز کے دوران مجموعی طور پر 50 سے زائد مراکز اور سپلائی کے ذرائع کی اسنیپ چیکنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں غیر معیاری اشیاء فروخت کرنے والے 16 فوڈ بزنس یونٹس پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے، جبکہ سنگین خلاف ورزی پر ایک کاروباری مرکز کو موقع پر ہی سیل کر دیا گیا۔
اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی، حبیب اللہ خان نے واضح اور سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی صحت سے کھلواڑ کرنے والے عناصر کے خلاف کسی قسم کی نرمی یا رعایت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو ملاوٹ سے پاک اور محفوظ دودھ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے فیلڈ آپریشنز کو مزید فعال اور مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ ڈی جی بی ایف اے کا مزید کہنا تھا کہ موبائل لیبارٹریز کی بدولت فوری ٹیسٹنگ اور کارروائی کے عمل میں تیزی آئی ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف یہ کریک ڈاؤن بلاتعطل جاری رہے گا۔

