کیپ ٹاؤن (الفجرآن لائن) پاکستان اور بالخصوص بلوچستان کے لیے یہ یقیناً ایک تاریخی اور قابلِ فخر لمحہ ہے کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی نڈر اور متحرک نوجوان رہنما، صوبائی مشیر کھیل و امورِ نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے عالمی سطح پر ملک کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ انہوں نے جنوبی افریقہ کے خوبصورت شہر کیپ ٹاؤن میں منعقدہ 69 ویں کامن ویلتھ پارلیمانی کانفرنس کے ایک انتہائی اہم سیشن "یوتھ راؤنڈ ٹیبل” میں پورے ایشیا ریجن کے نوجوانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستان اور بلوچستان کے نوجوانوں کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا۔
16 ستمبر کو ہونے والے اس خصوصی راؤنڈ ٹیبل سیشن کے دوران مینا مجید بلوچ نے پورے ایشیا ریجن کے نوجوانوں کی ترجمانی کی اور عالمی پارلیمانی برادری کے سامنے خطے کے نوجوانوں کو درپیش معاشی و سماجی مسائل، ان کی غیر معمولی صلاحیتوں، بے پناہ توانائی، مستقبل کے امکانات اور جدید مواقع کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کی ترقی کے لیے عالمی نیٹ ورکس کو مضبوط بنائیں تاکہ نوجوان نسل کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع میسر آسکیں۔
اپنے خطاب میں صوبائی مشیر نے اس بات پر گہرا اصرار کیا کہ کسی بھی ملک کا مستقبل اس وقت تک محفوظ اور روشن نہیں ہو سکتا جب تک نوجوانوں کو فیصلہ سازی اور پالیسی سازی کے اہم عمل کا باقاعدہ حصہ نہ بنایا جائے۔ انہوں نے عالمی فورم کو بتایا کہ پاکستان کی جمہوری اسمبلیوں میں تقریباً 30 فیصد نوجوان نمائندگی موجود ہے، جو کہ پاکستان کے سیاسی اور جمہوری عمل میں نوجوانوں پر اعتماد کا ایک واضح ثبوت ہے۔
مینا مجید بلوچ نے پاکستان کی آبادی کے اعداد و شمار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان خوش قسمت ممالک میں شامل ہے جس کی 62 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان آبادی نہ صرف توانائی، ہنر اور عزم سے مالا مال ہے بلکہ پاکستان کو ترقی، معاشی خوشحالی اور ایک مستحکم مستقبل کی جانب لے جانے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ان کے ہنر اور صلاحیتوں کو درست سمت فراہم کی جائے۔
دولتِ مشترکہ کے ممالک کی یہ سالانہ پارلیمانی کانفرنس ایک ایسا عالمی اور معتبر ترین پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر سے سینکڑوں پارلیمنٹیرینز، قانون ساز ادارے، پارلیمانی حکام اور سینیئر ڈیسیژن میکرز اکٹھے ہو کر مشترکہ عالمی، پارلیمانی اور سماجی چیلنجز پر تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔ ایسے معزز اور عالمی فورم پر بلوچستان کی ایک نوجوان خاتون کا پورے ایشیا کے نوجوانوں کی آواز بننا ملکی تاریخ کا ایک روشن باب قرار دیا جا رہا ہے۔

