اسلام آباد(الفجرآن لائن)پاکستان سے یورپ کی جانب غیرقانونی امیگریشن میں 64 فیصد ریکارڈ کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ کم وسائل کے باوجود غیر قانونی امیگریشن میں 64 فیصد کمی ایک چیلنجنگ ٹاسک تھا،غیر قانونی مائیگریشن میں کمی کیلئے لیگل مائیگریشن کی نئی راہیں کھولنا ضروری ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ سے ڈائریکٹر جنرل انٹرنیشنل سنٹر فار مائیگریشن پالیسی ڈویلپمنٹ(آئی سی ایم پی ڈی) سوزین راب اور یورپی یونین کی بارڈر اینڈ کوسٹ گارڈ ایجنسی ”فرنٹیکس” کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہانس لیئتنس کی الگ الگ ملاقات ہوئی۔
ڈائریکٹر جنرل آئی سی ایم پی ڈی نے کہا کہ پاکستان کی غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کاوشیں قابلِ تعریف ہیں۔ہانس لیئتنس نے کہا کہ پاکستان کی غیر قانونی امیگریشن کے سدباب کے لیے اٹھائے گئے اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔
انٹرنیشنل سنٹر فار مائیگریشن پالیسی ڈویلپمنٹ اور یورپی یونین کی بارڈر اینڈ کوسٹ گارڈ ایجنسی نے غیرقانونی امیگریشن کے سدباب کے لیے پاکستان کے موثر اقدامات کو سراہا۔
ملاقاتوں میں غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کیلئے انٹرنیشنل سینٹر فار مائیگریشن پالیسی ڈویلپمنٹ اور یورپی یونین کی بارڈر اینڈ کوسٹ گارڈ ایجنسی کے ساتھ باہمی تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔
ملاقات میں غیرقانونی امیگریشن کے سدباب اور بارڈر مینجمنٹ کے لئے مشترکہ اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ کم وسائل کے باوجود غیر قانونی امیگریشن میں 64 فیصد کمی ایک چیلنجنگ ٹاسک تھا۔
غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کو چیلنج سمجھ کر قبول کیا اور پوری ٹیم نے دن رات محنت کی۔غیر قانونی امیگریشن میں 100 فیصد کمی اگلا ہدف ہے، جسے ہر صورت حاصل کریں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ غیر قانونی مائیگریشن میں کمی کیلئے لیگل مائیگریشن کی نئی راہیں کھولنا ضروری ہے، غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور افسران کی ٹریننگ کی ضرورت ہے،
بارڈر مینجمنٹ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے دور جدید کے تقاضوں کے مطابق اداروں کی استعدادِ کار بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے، غیر قانونی امیگریشن کے مکمل خاتمے کے لیے مزید عملی اقدامات اور مربوط تعاون کی ضرورت ہے، پاکستان کے تمام ائر پورٹس کے 500 امیگریشن کاؤنٹرز پر جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیمرے نصب کرنا ہدف ہے۔

