اسلام آباد (الفجرآن لائن) وزارتِ توانائی نے بجلی کے نان پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین کو بڑا ریلیف دینے کی تیاری شروع کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاور ڈویڑن نے موجودہ ‘پروٹیکٹڈ’ فارمولے پر نظرثانی کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت صارفین کو کڑے ضوابط اور اضافی مالی بوجھ سے نجات دلائے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق موجودہ فارمولے کے تحت اگر کوئی پروٹیکٹڈ صارف سال میں صرف ایک بار بھی 200 یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال کر لے، تو اس کی پروٹیکٹڈ کیٹگری فوراً ختم کر دی جاتی ہے اور اسے اگلے پانچ
ماہ تک کم یونٹس استعمال کرنے پر بھی اضافی نرخ ادا کرنا پڑتے ہیں۔ وزارتِ توانائی کو موصول ہونے والی تجاویز کے مطابق اب 200 یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال ہونے کی صورت میں اسی ماہ اضافی ریٹ وصول کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے تاکہ صارفین کو طویل عرصے تک پنالٹی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
دوسری جانب حکومت کو ملک میں بٹ کوائن (کرپٹوانرجی) مائننگ کے لیے کم نرخوں پر بجلی فراہم کرنے کے معاملے پر تاحال کامیابی نہیں مل سکی۔
ذرائع وزارتِ توانائی کا کہنا ہے کہ حکومت اب تک اس معاملے پر عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو راضی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات میں بٹ کوائن مائننگ کے لیے بجلی کے رعایتی نرخوں کا یہ دیرینہ معاملہ ایک بار پھر آئی ایم ایف ٹیم کے سامنے اٹھایا جائے گا تاکہ اس حوالے سے کوئی قابلِ عمل لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔

