اسلام آباد(الفجرآن لائن)جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت عوام کی نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کی نمائندگی کررہی ہے۔ملک بارود کے ڈھیر پر پہنچ چکا ہے جبکہ حکمرانوں کو سیر و سیاحت سے فرصت نہیں۔
پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا حق ہے۔سوموار کو جمعیت علمائے اسلام(ف)کی جنرل کونسل کے دو روزہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الر حمن نے کہا کہ جنرل کونسل اجلاس میں ملک اور خطے کی مجموعی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ دو صوبوں میں عملا کوئی حکومت نہیں جبکہ سندھ کے بعض علاقوں میں ڈاکو راج ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقتور ادارے حکومت چلا رہے ہیں جو آئین، قانون اور اخلاق کے پابند نہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قرضوں کا دبا مسلسل بڑھ رہا ہے اور مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ لوگ اپنا علاج بھی نہیں کروا پا رہے۔ حکمرانوں کی آنکھیں اور کان بند ہیں، وہ نہ دیکھتے ہیں نہ سنتے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں دو جماعتوں کے مظاہروں کا اعلان کر دیا گیا جبکہ کشمیر میں تین ماہ سے لوگ احتجاج کر رہے ہیں اور حکمران اپنے وعدوں سے مکر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان چھوڑ رہی ہیں اور کوئی سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں۔ افغانستان اور بھارت کے ساتھ سرحدیں بند کر دی گئی ہیں انہوں نے کہا کہ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے اور نئے مسائل پیدا کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم بارود کے ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں اور صوبوں و معدنی وسائل کے مسائل چھیڑے جا رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی کے بغیر حکومت بنتی نہیں اور اگر بنتی ہے تو چلتی نہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اپنے فورم پر احتجاج کا مکمل حق حاصل ہے۔ جے یو آئی نے لانگ مارچ کیا تو کوئی پتہ نہیں ٹوٹا، لاہور میں میٹرو بس بھی چلتی رہی۔
انہوں نے پی ٹی آئی چیئرمین کی بہنوں کو اٹھائے جانے کی مذمت کی اور کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایک وزیر کو گولیاں مار کر اٹھا لیا گیا جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں پی ٹی آئی حکومت ہونے کے باوجود جلسے کی اجازت نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ صوبوں کے وسائل کے مالک صوبوں کی عوام ہیں اور صوبوں کی جنگ آئین کے مطابق لڑنی چاہیے۔

