نئی دہلی (الفجرآن لائن) بھارت اور طالبان رجیم کا گھناؤنا چہرہ ایک بار پھر بھارتی خفیہ ایجنسی را اور طالبان کی دہشتگرد نیٹ ورک انٹیلی جنس رپورٹ میں بے نقاب ہو گیا۔
خفیہ تحقیقاتی رپورٹ میں دہشتگرد کارروائیوں کیلئے بھارتی خفیہ ایجنسی را، افغان انٹیلی جنس اور طالبان رجیم کے درمیان رابطے کا انکشاف ہوا ہے۔
افغان انٹرنیشنل نے خفیہ تحقیقاتی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را، طالبان جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس(جی ڈی آئی) اور طالبان قیادت پر مشتمل نیٹ ورک2025میں قائم ہوا۔
طالبان انٹیلی جنس نے ہیبت اللہ اخوندزادہ کی ہدایات پر فتنہ
الہندوستان، فتنہ الخوارج اور دیگر دہشتگرد گروہوں کے روابط قائم کیے رپور ٹ میں کہا گیا ہے قندھارکے گورنر ملا شیریں نے القاعدہ اورفتنہ الخوارج(گل بہادر گروپ) کیساتھ میٹنگ کی اور دہشت گردی کیلئے بی ایل اے کی مدد کرنے کا کہا۔
جولائی2026میں جی ڈی آئی نے3میٹنگز کرائیں اور پاکستان میں دہشت گردی کیلئے فتنہ الہندوستان کو بھرپورتعاون کی یقین دہانی کرائی،
افغان انٹرنیشنل کے مطابق قندھار میں فتنہ الخوارج(ٹی ٹی پی) کے کمپاؤنڈ میں دوسری میٹنگ میں بی ایل اے نے بلوچستان میں دہشت گردی کیلئے جماعت الاحرار کو 3.5 ملین افغانی دیے،
تیسری میٹنگ افغانستان سے باہر را اورجی ڈی آئی کے مابین ہوئی جس میں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کی بلوچستان میں مشترکہ کارروائیوں کا فیصلہ کیا گیا۔
دستاویز میں انکشاف کیا گیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را نے پاکستان میں کارروائی کیلئے 7.8 ملین ڈالر سے زائد رقم فراہم کی۔
پاکستانی سیکیورٹی فورسزکے شدید دباؤ کے باعث افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں 26 اگست کو قندھار میں ایک ہنگامی اجلاس ہوا۔ جس میں فتنہ الہندوستان سے وابستہ بشیر زیب، خلیل بلوچ، صفت اللہ مینگل، انور نظامی اور مجید بلوچ نے بھی شرکت کی۔
رپور ٹ کے مطابق افغان طالبان نے بی ایل اے کو یقین دہانی کرائی کہ فتنہ الخوارج اور القاعدہ بلوچستان میں افرادی قوت، ہتھیاروں اورلاجسٹکس میں مدد کریں گے۔
رپور ٹ کے مطابق طالبان سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ کا فتنہ الہندوستان کو طالبان رجیم کی جانب سے اسلحہ فراہمی کیلئے لکھا گیا خط بھی دونوں کے گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہے۔
ملا ہیبت اللہ کی جانب سے خط میں کلاشنکوف رائفلز، راکٹ لانچرز اور گولہ بارود کی منتقلی اور حوالگی کی ہدایت دی گئی۔
ٹی ٹی پی کے سابق رکن ملا معراج الدین فراہی کو بی ایل اے کو افرادی قوت، اسلحہ اور مالی وسائل کی فراہمی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ دستاویز کے مطابق بلوچستان میں زیادہ تر حملے فتنہ الخوارج اور القاعدہ کرتی ہے جبکہ ذمہ داری فتنہ الہندوستان قبول کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطا بق دہشتگرد نیٹ ورکس کے مشترکہ انتظام کا مقصد امریکی پابندیوں کی زد میں دہشتگرد تنظیم القاعدہ کی شمولیت چھپانا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 4ستمبر کے زیارت حملے کو فتنہ الخوارج نے انجام دیا جبکہ فتنہ الہندوستان نے عالمی پابندیوں سے بچنے کیلئے ذمہ داری قبول کی،
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دہشتگردی کیلئے بھارتی را طالبان رجیم کیساتھ افغان سرزمین کو دہشت گردوں کی تربیت، مالی معاونت اور پناہ گاہوں کیلئے استعمال کر رہی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی را اور طالبان رجیم اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے مسلسل دہشتگردوں کی پشت پناہی میں ملوث ہیں۔
جبکہ افغانستان میں دہشتگردوں کی موجودگی خطے کے امن کیلئے خطرہ ہے موجودہ صورتحال دہشتگردی کو پورے خطے تک پھیلا سکتی ہے

