تحریک انصاف نے تمام آئینی، قانونی اور جمہوری راستے آزما لیے، اب پرامن احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
پشاور(الفجرآن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران اپنے تمام آئینی، قانونی اور جمہوری راستے اختیار کیے، وفاقی و پنجاب حکومت سے رابطے کیے، اسمبلیوں میں اپنا مقدمہ پیش کیا اور عدالتوں سے رجوع کیا، لیکن جب کسی سیاسی جماعت کو آئینی و قانونی راستوں سے انصاف نہ ملے تو پرامن احتجاج ہی اس کا آئینی حق اور آخری راستہ رہ جاتا ہے۔
27 ستمبر کو ہم پوری قوت کے ساتھ پرامن احتجاج کریں گے اور اپنے اس آئینی و جمہوری حق سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ وزیراعلیٰ نے ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر قائم مقام چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، پی ٹی آئی کے پارلیمنٹیرینز اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ 26 نومبر 2024 کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ظلم، جبر اور سیاسی انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ 26 نومبر کو ڈی چوک میں اپنے آئینی اور جمہوری حق کے لیے جمع ہونے والے پرامن شہریوں پر فائرنگ کی گئی، متعدد کارکن شہید ہوئے اور اس کے بعد تحریک انصاف کے خلاف مزید سخت کارروائیاں شروع کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ 26 نومبر 2024 سے شروع نہیں ہوا بلکہ 9 اپریل 2022 سے تحریک انصاف کو مسلسل سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہماری پر امن تحریک کے دوران کارکنوں کی شہادتیں ہوئی ہیں، لیکن تمام تر ظلم و جبر کے باوجود تحریک انصاف نہ ٹوٹی، نہ جھکی اور نہ ختم ہوئی۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جیل میں رکھا گیا جبکہ گزشتہ دن ان کی تین بہنوں اور کم سن بچوں کو بھی گرفتار کیا گیا، لیکن ایسے اقدامات کے باوجود تحریک انصاف کی جدوجہد جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 26 نومبر 2024 کے بعد تقریباً دو سال کا عرصہ گزرنے کو ہے۔ اس دوران تحریک انصاف نے کوئی بڑا لانگ مارچ نہیں کیا، خیبرپختونخوا سے باہر کوئی بڑا جلسہ نہیں کیا اور حتیٰ کہ حکومت نے بھی اپنے تمام آئینی اور جمہوری فورمز استعمال کیے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی اسمبلی میں تحریک انصاف نے اپنا مقدمہ پیش کیا، قومی اسمبلی میں اپنا مؤقف اٹھایا اور تمام آئینی فورمز سے بھی رجوع کیا، لیکن کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ وفاقی اور پنجاب حکومتوں سے بھی رابطہ کیا گیا، لیکن ان کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا

