پولیس کو جدید آلات، معیاری تربیت اور سیاسی مداخلت سے پاک پیشہ ورانہ ماحول فراہم کریں گے، وزیر اعلیٰ بلوچستان
اسلام آباد (الفجر آن لائن): وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ پوری ریاست اور معاشرے کی مشترکہ جنگ ہے، جس میں پولیس، سول سوسائٹی، بیوروکریسی، سیاستدانوں اور عدلیہ سمیت تمام اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بلوچستان پولیس اس جنگ میں اگلے محاذ پر ہوگی اور اپنے وطن کے دفاع کی ذمہ داری پوری جرات اور عزم کے ساتھ نبھائے گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد میں بلوچستان پولیس کے نئے تعینات ہونے والے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (ڈی ایس پیز) کی تربیت مکمل ہونے پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی آئی جی پی سعد بھروانہ، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان، تربیت مکمل کرنے والے افسران، مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کے شرکاء اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت بلوچستان پولیس کو جدید آلات، معیاری تربیت اور میرٹ پر مبنی تعیناتیوں و تبادلوں کا نظام فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، جہاں سیاسی مداخلت یا دباؤ کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ پولیس افسران کی تعیناتی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں میرٹ بنیادی اصول ہوگا۔ ان کے مطابق میرٹ کی بالادستی نوجوان نسل کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ پیشہ ورانہ آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ پولیس افسران خود کو عوام سے بالاتر سمجھیں۔ پولیس افسران ریاست اور عوام کے خادم ہیں اور انہیں دیانت داری، عزت و وقار اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ شہریوں کی خدمت کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو مکمل طور پر اے ایریا قرار دیے جانے کے بعد پولیس کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں، اور افسران کو اپنے عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ صوبے میں مؤثر امن و امان قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پولیس کی بنیادی ذمہ داری منظم جرائم کا خاتمہ ہے، تاہم موجودہ حالات میں دہشت گردی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ دہشت گرد تشدد اور معصوم شہریوں کے قتل کے ذریعے ملک کو تقسیم کرنے کے عزائم رکھتے ہیں، لیکن بلوچستان حکومت اور پولیس اس جنگ سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس فورس اپنی پیشہ ورانہ مہارت، بہادری اور قربانیوں کے ذریعے تشدد پسند عناصر کا مقابلہ کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان پولیس نے قیامِ امن کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور وطن کے تحفظ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے اہلکاروں پر قوم کو فخر ہے۔ پولیس افسران کو بلا خوف و خطر دہشت گردی کے خلاف صفِ اول میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ریاست کے سامنے ہتھیار ڈالنے اور تشدد کا راستہ ترک کرنے والوں کے لیے دروازے کھلے ہیں، تاہم بندوق کے زور پر نظریات مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ طاقت کے استعمال کا جائز اور قانونی اختیار صرف ریاست کے پاس ہے، جبکہ پولیس، قانون نافذ کرنے والے ادارے، نیم فوجی دستے اور مسلح افواج شہریوں کے تحفظ اور ملک کے دفاع کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ آئی جی پولیس محمد طاہر کی قیادت میں بلوچستان پولیس دہشت گردوں، جرائم پیشہ عناصر اور بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف مؤثر کردار ادا کرے گی۔ صوبائی حکومت پولیس کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن معاونت جاری رکھے گی۔
وزیر اعلیٰ نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پولیس کے افسران کو نیشنل پولیس اکیڈمی میں تربیت کے مواقع فراہم کرنا قابلِ تحسین اقدام ہے۔ انہوں نے اکیڈمی کے کمانڈنٹ، تربیت کاروں اور عملے کی خدمات کو بھی سراہا اور امید ظاہر کی کہ تربیت مکمل کرکے صوبے واپس جانے والے افسران اپنی عملی کارکردگی سے اکیڈمی کی محنت کو کامیاب ثابت کریں گے۔
تقریب کے اختتام پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے تربیت مکمل کرنے والے ڈی ایس پیز میں اسناد اور انعامات تقسیم کیے۔ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی بہترین پروبیشنر مس قرۃ العین کو اعزازی تلوار (سورڈ آف آنر) سے نوازا گیا۔ اس موقع پر مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس کے شرکاء، پولیس سروس آف پاکستان اور نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو کے افسران میں بھی سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے۔
میر سرفراز بگٹی نے تربیت مکمل کرنے والے افسران کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مکمل تعاون جاری رکھے گی۔ انہوں نے پاکستان کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

