اسلام آباد (الفجر آن لائن) وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سینیٹ کو بتایا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق 80 روپے فی لیٹر لیوی عائد ہے، جبکہ ملک کی مقامی خام تیل کی پیداوار ملکی ضروریات کے مقابلے میں محدود ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ریفائنریز کی مجموعی ریفائننگ صلاحیت تقریباً چار لاکھ بیرل ہے، تاہم ان میں سے بیشتر پرانی ہونے کے باعث پیٹرول کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
جمعرات کو سینیٹ کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران ضمنی سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ پاکستان میں مقامی طور پر بھی خام تیل پیدا کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتِ حال کے دوران حکومت کی کوشش رہی ہے کہ خام تیل درآمد کرکے اس سے ڈیزل تیار کیا جائے۔سینیٹر ذیشان خانزادہ نے سوال اٹھایا کہ خام تیل کی درآمد سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کتنی کمی ہوئی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ اس وقت ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت تقریباً 400 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔
اس پر وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے وضاحت کی کہ پیٹرول اور ڈیزل دونوں پر 80 روپے فی لیٹر لیوی عائد ہے، جبکہ آئی ایم ایف نے اس مد میں ایک حد مقرر کر رکھی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں خام تیل کی یومیہ کھپت چار سے ساڑھے چار لاکھ بیرل کے لگ بھگ ہے، جبکہ مقامی پیداوار صرف 60 سے 70 ہزار بیرل یومیہ ہے۔
اس فرق کے باعث ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات کی ضرورت برقرار رہتی ہے۔وفاقی وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ صوبوں کو گیس رائلٹی کی مد میں سالانہ تقریباً 35 ارب روپے ملتے ہیں۔
انہوں نے بلوچستان میں گیس کی فراہمی اور صارفین کو درپیش مسائل کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے پر وزیراعلیٰ بلوچستان سے بات چیت ہوئی ہے۔
علی پرویز ملک کے مطابق بلوچستان میں تقریباً ساڑھے تین لاکھ گیس صارفین ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ ہفتے وزیراعلیٰ بلوچستان کے ساتھ مل کر گیس کے سلیب سے متعلق معاملے کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ مسئلے کے حل کے لیے مناسب اقدامات کیے جا سکیں۔
ریفائنریز سے متعلق ضمنی سوالات کے جواب میں وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ ماضی میں ریفائنریز کو دی گئی شرائط میں ان کی اپ گریڈیشن لازمی قرار نہیں دی گئی تھی۔
تاہم اب ریفائنریز کو پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ اپنی تنصیبات کی اپ گریڈیشن پر لازمی اخراجات کریں۔ اس اقدام کا مقصد ریفائننگ کے شعبے میں بہتری لانا اور ملکی ضروریات کے مطابق پیداوار کی صلاحیت میں اضافے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

