اسلام آباد(الفجر آن لائن) قومی اسمبلی میں بجلی، پیٹرولیم اور معدنی وسائل سے متعلق اہم اعداد و شمار پیش کیے گئے، جن کے مطابق ملک کے بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 30 جون 2026 تک بڑھ کر 1675 ارب روپے ہو گیا، جبکہ مالی سال 2025-26 کے دوران بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں 1711 ارب روپے ادا کیے گئے۔
حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ 2035 تک بجلی کی پیداوار میں صاف توانائی کا حصہ 90 فیصد تک لے جانے کے ہدف کے حصول کے لیے الگ روڈ میپ تیار نہیں کیا گیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر توانائی اویس لغاری کے تحریری جواب کے مطابق مالی سال 2024-25 میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں 1669 ارب روپے ادا کیے گئے تھے، جو مالی سال 2025-26 میں بڑھ کر 1711 ارب روپے ہو گئے۔
حکومت نے گردشی قرضے کی بڑی وجوہات میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے زیادہ لائن لاسز، کم ریکوری اور مالی اخراجات کو قرار دیا۔حکومت کے مطابق 2035 تک ملک میں بجلی پیدا کرنے کی مجموعی
نصب شدہ صلاحیت 62 ہزار 383 میگاواٹ تک پہنچنے کا تخمینہ ہے نیپرا کے منظور شدہ منصوبے کے تحت بجلی کی پیداواری صلاحیت میں مزید 16 ہزار 406 میگاواٹ اضافے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے،
جس میں 93 فیصد اضافہ قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع سے متوقع ہے۔حکومت نے 2030 تک بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 60 فیصد تک بڑھانے کا ہدف بھی مقرر کر رکھا ہے،
تاہم 2035 تک صاف توانائی کا حصہ 90 فیصد تک پہنچانے کے لیے الگ روڈ میپ کی عدم موجودگی کا اعتراف بھی قومی اسمبلی میں کیا گیا۔
تحریری جواب کے مطابق بجلی کے نظام کو مستحکم بنانے کے لیے 600 میگاواٹ بیٹری اسٹوریج اور 1500 میگاواٹ آور توانائی ذخیرہ کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
اس منصوبے پر 900 سے 910 ملین ڈالر سرمایہ کاری کا تخمینہ لگایا گیا ہے، تاہم نیپرا نے تاحال مجوزہ سرمایہ کاری کی منظوری نہیں دی۔
جھمپیر ون گرڈ اسٹیشن پر 20 میگاواٹ بیٹری اسٹوریج کے پائلٹ منصوبے کی نظرثانی شدہ لاگت 15.7 ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔

