چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سیاسی جماعتوں سے فلاحی منصوبے پر سیاست نہ کرنے کی اپیل، مستحق خواتین کے لیے ذاتی ڈیجیٹل کھاتے متعارف کرانے کا اعلان، تعلیمی وظائف سے ایک کروڑ سے زائد بچے مستفید ہو رہے ہیں۔
اسلام آباد(الفجرآن لائن): چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ اس قومی فلاحی منصوبے سے ملک بھر میں ایک کروڑ سے زائد خاندان اور چھ کروڑ سے زیادہ افراد مستفید ہو رہے ہیں، لہٰذا اسے بھکاری یا خیراتی پروگرام قرار دینا مستحق خاندانوں اور خواتین کی دل آزاری کے مترادف ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ غریب عوام کے اس اہم فلاحی منصوبے کو سیاسی تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے اس کی افادیت اور مستحق افراد کی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے روبینہ خالد نے بتایا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کے بڑے سماجی تحفظ کے منصوبوں میں شامل ہے، جس کے ذریعے معاشی مشکلات کا شکار خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی وظائف پروگرام کے تحت ایک کروڑ سے زائد بچے مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ نشوونما پروگرام کے ذریعے ایک لاکھ سے زیادہ بچوں اور ماؤں کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی کا کہنا تھا کہ جب اس پروگرام کو بھکاری یا خیراتی منصوبہ کہا جاتا ہے تو انہیں دلی دکھ ہوتا ہے، کیونکہ یہ ان خاندانوں کی مدد کا ذریعہ ہے جو مہنگائی اور معاشی مشکلات کے باعث سخت حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پروگرام بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے منسلک ہے اور اس کے تحت باقاعدہ نگرانی اور جانچ پڑتال کا نظام موجود ہے۔ روبینہ خالد نے مزید بتایا کہ پروگرام میں شفافیت اور ادائیگیوں کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے نیا ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت مستحق خواتین کے اپنے ذاتی ڈیجیٹل کھاتے ہوں گے تاکہ مالی معاونت براہِ راست ان تک پہنچائی جا سکے اور ادائیگیوں کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے بے نظیر ہنرمند پروگرام کے حوالے سے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت مختلف علاقوں سے نوجوانوں کو جامعات میں لا کر پیشہ ورانہ مہارتوں کی تربیت فراہم کی جائے گی۔ ان کے مطابق یہ چھ ماہ کا آزمائشی منصوبہ ہوگا، جس کے آغاز کے لیے ہری پور کی ایک جامعہ کے ساتھ اشتراک کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے کہا کہ یہ پروگرام ایک مؤثر قومی فلاحی منصوبہ ہے جسے دیگر ممالک بھی اپنا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی سرکاری منصوبے پر تنقید کرنا ہر ایک کا حق ہے، تاہم تنقید کے نام پر اس کی تذلیل اور اس سے فائدہ اٹھانے والے غریب خاندانوں کی عزتِ نفس مجروح نہیں کی جانی چاہیے۔

