صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کی سربراہی میں حکومتی وفد نے دھرنا کمیٹی کے مطالبات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرا دی، مغوی حیدر کاکڑ بھی بازیاب، مذاکرات کی کامیابی کے بعد تنگ مسےزئی میں جاری احتجاج ختم کرنے کا اعلان۔
کوئٹہ(الفجرآن لائن): قلعہ عبداللہ کے علاقے تنگ مسےزئی میں جاری دھرنا حکومتی وفد اور دھرنا کمیٹی کے درمیان طویل مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد ختم کردیا گیا، جبکہ احتجاج کے باعث بند شاہراہ کو بھی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کی سربراہی میں حکومتی وفد نے دھرنا کمیٹی کے نمائندوں سے مذاکرات کیے، جن میں صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، رکن صوبائی اسمبلی زمرک خان اچکزئی اور معاون برائے داخلہ بابر یوسفزئی بھی شریک تھے۔ مذاکرات کے دوران حکومتی وفد نے مظاہرین کے مطالبات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان اتفاق رائے ہوگیا۔ اس پیش رفت میں مغوی حیدر کاکڑ کی بازیابی بھی اہم پیش رفت قرار دی گئی، جس کے بعد دھرنا کمیٹی کے منتظمین نے احتجاج ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کردیا۔
صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے اس موقع پر کہا کہ احتجاج کرنا جمہوری معاشرے میں ہر شہری کا حق ہے اور حکومت عوام کے جائز مطالبات کو اہمیت دیتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دھرنا کمیٹی کے مطالبات پر عملدرآمد کے لیے متعلقہ انتظامیہ کو ضروری ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور علاقے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام طبقات کو مل کر سیکیورٹی فورسز کا ساتھ دینا ہوگا۔ صوبائی وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ اور امن و امان کی بحالی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ مذاکرات کی کامیابی کے بعد دھرنا ختم ہونے اور شاہراہ کھلنے سے علاقے میں آمدورفت کی بحالی کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

