کوئٹہ (الفجرآن لائن) حکومت بلوچستان نے صوبے کے سرکاری پرائمری اسکولوں میں یونیفارم کی شرط ختم کرتے ہوئے پرائمری تعلیمی اداروں کو ”جینڈر فری” قرار دینے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے۔ جس کے تحت بچے اور بچیاں ایک ہی اسکول میں بنیادی تعلیم حاصل کرسکیں گے یہ فیصلہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں خواتین اساتذہ کی کمی، تعلیمی سہولیات کے محدود وسائل اور غریب خاندانوں پر یونیفارم کے مالی بوجھ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں میں ”ٹاٹ کلچر” کے مکمل خاتمے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے سیکرٹری اسکولز ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو تمام تعلیمی اداروں میں ڈیسکوں کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کا حکم دے دیا ہے یہ اہم فیصلے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیے گئے جس میں تعلیم، صحت اور امن و امان کے شعبوں میں اصلاحات اور آئندہ مالی سال کے بجٹ کے تناظر میں ترجیحی اقدامات کا جائزہ لیا گیا اجلاس میں صوبے میں شرح خواندگی بڑھانے، تعلیمی معیار بہتر بنانے اور اسکولوں تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شرح خواندگی میں اضافے اور زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیمی نظام میں شامل کرنے کے لیے صوبے کے 900 اسکولوں میں ڈبل شفٹ تدریسی نظام متعارف کرایا جائے گا اس اقدام سے موجودہ تعلیمی انفراسٹرکچر کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے ہزاروں اضافی طلبہ کو تعلیم کی سہولت فراہم کی جا سکے گی۔
اجلاس میں پرائمری اسکولوں کو جینڈر فری قرار دینے کی مجوزہ پالیسی کو بلوچستان کابینہ کے آئندہ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کرنے کی سفارش بھی کی گئی شرکاء کو بتایا گیا کہ اس اقدام سے خاص طور پر دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں میں بچوں اور بچیوں کی اسکولوں تک رسائی میں نمایاں بہتری آئے گی اور شرح داخلہ میں اضافہ ہوگا چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آئندہ سال تک صوبے کے تین ہزار سنگل روم اسکولوں میں اضافی کمروں کی تعمیر مکمل کی جائے گی تاکہ تعلیمی ماحول کو مزید بہتر بنایا جا سکے اور بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان کے تمام سرکاری اسکولوں میں منظور شدہ یکساں ریڈنگ اینڈ رائٹنگ مٹیریل متعارف کرایا جائے گا تاکہ طلبہ کو یکساں اور معیاری تعلیمی مواد فراہم کیا جا سکے اجلاس میں این سی ایچ ڈی کے اساتذہ کی کئی برسوں سے جمود کا شکار فکسڈ تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافے پر بھی اتفاق کیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دنیا تیزی سے ترقی کرچکی ہے لیکن یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ بلوچستان کے اکثر علاقوں میں آج بھی بچے ٹاٹ پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال کسی صورت قابل قبول نہیں حکومت ہر بچے کو باوقار تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے وزیر اعلیٰ نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے تمام فعال سرکاری اسکولوں میں ہر بچے کو ڈیسک فراہم کیا جائے گا اور کوئی بھی طالب علم زمین یا ٹاٹ پر بیٹھ کر تعلیم حاصل نہیں کرے گا انہوں نے کہا کہ بچوں میں خود اعتمادی، عزت نفس اور احساسِ وقار پیدا کرنا معیاری تعلیم کا بنیادی جزو ہے اور حکومت اس مقصد کے حصول کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ خود صوبے کے دور دراز علاقوں میں اسکولوں کا اچانک معائنہ کریں گے اور زمینی حقائق کا جائزہ لیں گے انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے کسی بھی پہاڑی یا دور افتادہ علاقے میں واقع اسکول کا اچانک دورہ کیا جا سکتا ہے تاکہ حکومتی احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے وزیر اعلیٰ نے انتباہ کیا کہ مقررہ مدت کے بعد اگر کسی اسکول میں بچے ٹاٹ پر بیٹھے ہوئے پائے گئے تو متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت تعلیم، صحت اور امن و امان کے شعبوں میں اصلاحات کے ذریعے بلوچستان کے عوام خصوصاً نئی نسل کو بہتر اور روشن مستقبل فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی، صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو، صوبائی وزیر ترقیات و منصوبہ بندی میر ظہور بلیدی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، سیکرٹری تعلیم لعل جان جعفر، سیکرٹری ہیلتھ مجیب الرحمٰن پانیزئی، سیکرٹری خزانہ جہانگیر خان کاکڑ، پرنسپل سیکرٹری عمران زرکون، اسپیشل سیکرٹری خزانہ عارف خان، ایڈیشنل سیکرٹری چیف منسٹر سیکرٹریٹ محمد فریدون خان سمیت متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔
