ایک میری ٹائم مانیٹرنگ کمپنی کے مطابق امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایرانی تیل کی ترسیل جاری ہے اور پیر کے روز ایران کے جھنڈے والے 4 آئل ٹینکرایرانی تیل لے کر آبنائے ہرمز سے گزرے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی نے میرین ٹریکنگ فرم کلپر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ 15 اپریل کے بعدایرانی آئل ٹینکروں کی جانب سے آبنائے ہرمز عبور کرنے کا پہلا واقعہ ہے۔
کلپر کے مطابق جمعرات کو جاری کردہ اعداد و شمار میں ہلڈا آئی، ایمبر، سلویہ ون اور ہیپینس آئی نامی ٹینکرز کی نقل و حرکت ریکارڈ کی گئی جو مجموعی طور پر 70 لاکھ بیرل تیل لے جا رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ان تمام جہازوں نے اپریل کے وسط میں ایران کے مرکزی آئل ٹرمینل خارگ سے تیل لوڈ کیا تھا۔
یہ جہاز پیر کے روز اپنے خودکار شناختی نظام (AIS) بند کرکے آبنائے ہرمز سے گزرے۔
یہ ٹینکرز عموماً ایرانی خام تیل کو ملائیشیا اور سنگاپور کے ساحلوں کے قریب تک لے جاتے ہیں جہاں سمندر میں ہی تیل دیگر ٹینکرز میں منتقل کیا جاتا ہے جو اسے حتمی خریدار تک پہنچاتے ہیں جو اکثر چین ہوتا ہے۔
کلپر کے مطابق یہ چاروں ٹینکرز ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باوجود اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے، تاہم 13 اپریل کو امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے بعد انہوں نے عارضی طور پر آپریشن روک دیا تھا۔
اس سے قبل 15 اپریل کو ایران سے منسلک تین دیگر آئل ٹینکرز بھی ناکہ بندی کو توڑتے ہوئے گزرے تھے تاہم اس کے بعد اب تک کسی اور جہاز نے ایسا کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
