دوحہ( الفجرآن لائن) قطر کے مشہور صنعتی شہر "راس لفان میں اتوار کی شام ایک گیس پلانٹ کے اندر شدید دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور 66 زخمی ہو گئے۔ قطر کے وزیر توانائی اور قطر انرجی کے سی ای او سعد الکعبی نے پیر کے روز دوحہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہلاکتوں کی تصدیق کی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے میں جان بحق ہونے والے تمام افراد پاکستانی اور بھارتی نژاد محنت کش تھے۔
قطری وزارت داخلہ کے مطابق یہ حادثہ کوئی تخریب کاری نہیں بلکہ ایک داخلی فنی خرابی تھی۔ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب عملہ برزان گیس پلانٹ کو دوبارہ فعال (restart) کرنے کی کوشش کر رہا تھا، جو کہ ایک انتہائی حساس اور تکنیکی عمل ہے۔ اسی دوران آپریشنل غلطی اور مکینیکل خرابی کی وجہ سے پلانٹ کے اندر ایک زوردار دھماکہ ہوا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے آگ پکڑ لی۔ یہ پلانٹ قطر کو مقامی سطح پر پائپ لائن گیس فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔
یہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی لہروں نے 70 کلومیٹر (43 میل) دور دارالحکومت دوحہ کے وسطی علاقوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ دھماکے کی گونج سے وہاں عمارتوں کی کھڑکیاں لرز اٹھیں اور مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ واقعے میں زخمی ہونے والے 66 افراد میں پاکستان اور بھارت کے علاوہ قطر، نیپال، بنگلہ دیش، تنزانیہ، کینیا اور نائیجیریا کے شہری شامل ہیں، تاہم طبی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی زخمی کی حالت خطرے میں نہیں ہے۔
واضح رہے کہ راس لفان انڈسٹریل سٹی دنیا میں مائع قدرتی گیس (LNG) کی سپلائی کا ایک بہت بڑا مرکز ہے، جسے مارچ 2026 میں علاقائی کشیدگی کے دوران ایرانی میزائل حملوں میں نقصان پہنچا تھا۔ قطری حکام نے واضح کیا ہے کہ اس تازہ حادثے کے باوجود عالمی مارکیٹ کے لیے گیس کی برآمدات اور راس لفان بندرگاہ کی سرگرمیاں بالکل متاثر نہیں ہوئی ہیں۔ ماحول میں کسی قسم کی زہریلی گیس کا اخراج نہیں ہوا اور حکومت نے حادثے کی قطعی وجوہات جاننے کے لیے اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
