واشنگٹن ( ویب ڈیسک) غير ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی آفس آف گورنمنٹایتھکس میں جمع کرائی گئی اپنی سالانہ مالیاتی رپورٹ میں کرپٹو کرنسی کے کاروبار سے 1.4 ارب ڈالر سے زائد کی ریکارڈ آمدنی ظاہر کی ہے۔ جس کے بعد ڈیجیٹل اثاثے ان کے دوسرے صدارتی دور میں ان کی ذاتی کمائی کا سب سے بڑا ذریعہ بن گئے ہیں۔ 927 صفحات پر مشتمل یہ تفصیلی دستاویز، جو مکمل طور پر سال 2025 کا احاطہ کرتی ہے، ظاہر کرتی ہے کہ ٹرمپ کے مالیاتی پورٹ فولیو میں ایک بہت بڑی تبدیلی آئی ہے اور ان کے ٹیک اور ویب تھری کے کاروبار نے ان کی روایتی رئیل اسٹیٹ کی سلطنت کو کافی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
کرپٹو سے ہونے والی اس تاریخی آمدنی کا بڑا حصہ بنیادی طور پر دو بڑے ذرائع سے حاصل ہوا، جن میں سب سے نمایاں ‘ورلڈ لبرٹی فنانشل’ ہے، جو کہ ایک کرپٹو وینچر ہے اور اسے ٹرمپ نے اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر شروع کیا تھا۔ ٹرمپ کی کمپنیوں نے صرف اسی ایک وینچر سے تقریباً 800 ملین ڈالر کمائے، جس میں ٹوکنز کی ابتدائی فروخت سے حاصل ہونے والے 520 ملین ڈالر اور بزنس ایکویٹی کی فروخت سے ملنے والے اضافی 250 ملین ڈالر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، امریکی صدر نے مارکیٹ میں اپنے نام سے وابستہ مقبول ‘$TRUMP’ میم کوائن کی فروخت پر رائلٹی، برانڈنگ فیس اور لین دین کے منافع کی مد میں مزید 635 ملین ڈالر بھی حاصل کیے۔
اگرچہ کرپٹو کرنسی باضابطہ طور پر رئیل اسٹیٹ کو پیچھے چھوڑ کر ٹرمپ کی ذاتی دولت کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکی ہے، لیکن ان کے مہمان نوازی (ہاسپیٹلٹی) اور بین الاقوامی برانڈنگ کے روایتی کاروبار نے بھی انتہائی مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے گولف کورسز اور پرتعیش ریزورٹس سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدنی 500 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی، جس میں پام بیچ کے ‘مار-اے-لاگو’ کلب کی آمدنی اپنی پچھلی 50 ملین ڈالر کی سطح سے بڑھ کر 77 ملین ڈالر تک پہنچنا بھی شامل ہے۔ مزید برآں، میامی میں واقع ٹرمپ ڈورل ریزورٹ نے 122 ملین ڈالر کا بزنس کیا، جبکہ غیر ملکی لائسنسنگ پارٹنرشپس (جو زیادہ تر مشرق وسطیٰ میں لگژری رئیل اسٹیٹ برانڈنگ کے سودوں پر مبنی تھیں) سے 52 ملین ڈالر حاصل ہوئے، اور مختلف میڈیا کمپنیوں کے ساتھ قانونی تنازعات کے حل سے 80 ملین ڈالر کی اضافی رقم ملی۔
,اس بڑی مالیاتی رپورٹ کے منظر عام پر آتے ہی واشنگٹن میں مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ پر عوامی جانچ پڑتال اور شدید سیاسی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد سے ٹرمپ فیملی کرپٹو سے وابستہ منصوبوں سے کم از کم 2.3 ارب ڈالر کما چکی ہے، اور یہ کمائی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ ملک میں کرپٹو قوانین کو نرم کرنے اور اسٹیبل کوائن کے حق میں پالیسیاں بنانے کے لیے سرگرم ہے۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان انا کیلی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر کے تمام اثاثے مکمل طور پر ان کے بالغ بچے سنبھال رہے ہیں، لیکن سینیٹر الزبتھ وارن کی قیادت میں ڈیموکریٹس نے اس رپورٹ کو بنیاد بنا کر وفاقی کرپٹو قانون سازی میں سخت اخلاقی پابندیاں شامل کرنے کا مطالبہ تیز کر دیا ہے
