قطر( الفجرآن لائن) قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ تیکنیکی مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد ایک مستقل امن معاہدے تک پہنچنا اور بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو بحال کرنا ہے۔ قطر اور پاکستان کی مشترکہ ثالثی میں ہونے والے یہ مذاکرات گزشتہ ماہ طے پانے والے 14 نکاتی عبوری معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے ہو رہے ہیں۔ یاد رہے کہ فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد ایک انتہائی تباہ کن جنگ چھڑ گئی تھی، جس کو روکنے کے لیے یہ عبوری فریم ورک تیار کیا گیا تھا۔ اگرچہ دونوں ممالک اس جنگ سے نکلنا چاہتے ہیں، تاہم گزشتہ ہفتے کے دوران ہونے والی اچانک فوجی کارروائیوں اور جوابی حملوں نے اس عارضی معاہدے پر عملدرآمد کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
مذاکرات کے اس تیکنیکی مرحلے میں دونوں ممالک کے ماہرین اور اعلیٰ سفارت کار انتہائی حساس اقتصادی اور لاجسٹک امور پر سر جوڑ کر بیٹھے ہیں۔ امریکہ کی اولین ترجیح تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہم ‘آبنائے ہرمز’ سے بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں کی بلا تعطل اور آزادانہ نقل و حرکت کو ہر صورت بحال کروانا ہے۔ اس کے برعکس، ایران اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنی مکمل خودمختاری تسلیم کروانے پر بضد ہے، تاکہ وہ وہاں مخصوص تجارتی راستے متعین کر سکے اور گزرنے والے جہازوں پر بحری ٹرانزٹ فیس نافذ کر سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی پابندیوں کے تحت منجمد کیے گئے 6 ارب ڈالر کے ایرانی اثاثوں کی فوری بحالی ان کی اولین اور غیر گفتنی شرط ہے۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے دور رکھنے کا عمل مثبت سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، تاہم دوحہ سے آنے والی رپورٹس کے مطابق اس تیکنیکی راؤنڈ میں ابھی تک وسیع تر جوہری پابندیوں پر تفصیلی بات چیت شروع نہیں ہو سکی۔
اس ہائی پروفائل سفارت کاری کے اثرات صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں ہیں، بلکہ اس عبوری فریم ورک کا براہ راست تعلق جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری متوازی جنگ کے خاتمے سے بھی ہے۔ تاہم، علاقائی سلامتی کے اس فریم ورک کو مقامی عسکری دھڑوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ دوسری جانب، آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس گزرتی ہے، اب بھی انتہائی غیر یقینی اور سخت پابندیوں کی زد میں ہے۔ تیکنیکی ماہرین جہاں ایک طرف کشیدگی کم کرنے کا لائحہ عمل تیار کرنے میں مصروف ہیں، وہیں عالمی توانائی کی منڈیوں نے اس پیش رفت پر فوری ردعمل ظاہر کیا ہے۔ مذاکرات شروع ہوتے ہی امریکی خام تیل کی قیمت گر کر 69 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی ہے، جو کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک کی سب سے کم ترین سطح ہے۔
