ناران (ویب ڈیسک) ناران میں سنسنی خیز اور وائرل ویڈیو بنانے کے چکر میں خود کو "سلطان آف ورک گڑھ” کہلوانے والے مشہور ٹک ٹاکر سلطان ورک اپنے تین ساتھیوں سمیت دریا کی بپھری لہروں کا شکار ہوتے ہوتے بچے، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے چاروں نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ واقعہ ناران کے مشہور سیاحتی مقام دھم دھما کے قریب پیش آیا جہاں نوجوانوں نے اپنی ٹویوٹا ویگو گاڑی کو گہرے پانی میں اتار دیا۔
نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے اپنی ڈبل کیبن گاڑی کو دریائے کنہار کے تیز بہاؤ میں ڈال دیا، لیکن پہاڑی دریا کا تند و تیز کرنٹ سیکنڈوں میں گاڑی پر حاوی ہو گیا۔ پانی کی تیز لہروں نے ویگو کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس سے گاڑی میں سوار چاروں نوجوان اندر ہی محصور ہو کر رہ گئے اور گاڑی بہنے لگی۔ وہاں موجود مقامی رافٹنگ ریسکیو ٹیم نے فوری اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے اپنی کشتیاں پانی میں اتاریں اور ڈوبتے ہوئے ٹک ٹاکرز کو بحفاظت نکال کر ان کی جانیں بچائیں۔
اس خ اسٹنٹ کی ویڈیو وائرل ہونے پر مانسہرہ پولیس نے فورن ایکشن لیا اور حادثے کا سبب بننے والے چاروں افراد کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت سلطان ورک، علی عثمان، محسن خان اور آصف علی کے ناموں سے ہوئی ہے اور ان تمام کا تعلق شیخوپورہ سے ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ان نوجوانوں نے ضلع میں نافذ دفعہ 144 کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی، جس کے تحت گرمیوں کے موسم میں بپھرے ہوئے دریاؤں کے قریب جانے، نہانے یا گاڑیاں لے جانے پر سخت پابندی عائد ہے۔ پولیس نے ڈوبنے والی ٹویوٹا ویگو کو بھی دریا سے نکال کر قبضے میں لے لیا ہے

