ڈھاکا (الفجرآن لائن) بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی حوالگی کا معاملہ ایک بار پھر سفارتی کشیدگی کا باعث بن گیا ہے۔
بھارتی جریدے ’دی ہندو‘ کے مطابق بنگلہ دیش نے واضح کیا ہے کہ شیخ حسینہ اور دیگر مفرور ملزمان کی حوالگی کے معاملے پر پیش رفت تک وزیراعظم طارق رحمان کے بھارت کے دورے کے امکانات نہیں ہیں، جس سے دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں موجود تناؤ مزید نمایاں ہوگیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کے ترجمان اے کے ایم شاہد کریم نے کہا ہے کہ وزیراعظم طارق رحمان کے بھارت دورے سے قبل نئی دہلی کو ایک ”موزوں ماحول“ پیدا کرنا ہوگا۔
بنگلہ دیشی حکام نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ شیخ حسینہ اور دیگر مفرور ملزمان کی حوالگی کے عمل کو تیز کرے۔
شیخ حسینہ، جو 2024 کے سیاسی بحران کے بعد بھارت میں موجود ہیں، کی حوالگی کا مطالبہ بنگلہ دیش کی نئی حکومت کی جانب سے مسلسل کیا جاتا رہا ہے۔
بنگلہ دیشی حکام کے مطابق ان کی حوالگی کا معاملہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعظم طارق رحمان نے رواں سال عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے ابتدائی غیر ملکی دوروں میں ملائیشیا اور چین کا انتخاب کیا، جبکہ بھارت کا دورہ تاحال نہیں کیا گیا۔
بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ کی سرکاری معلومات بھی وزیراعظم طارق رحمان کے ملائیشیا کے دورے کی تصدیق کرتی ہیں۔بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان شیخ حسینہ کی حوالگی کے علاوہ بھی متعدد سیاسی اور سفارتی معاملات زیر بحث ہیں۔
تاہم حسینہ کی موجودگی اور ان کے خلاف بنگلہ دیش میں جاری قانونی کارروائی دونوں ممالک کے تعلقات میں سب سے حساس معاملات میں شامل ہیں

