تہران( الفجرآن لائن) ایران کے جنوبی حصوں پر رات گئے امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں ایرانی مسلح افواج کے کم از کم 8 اہلکار جاں بحق ہو گئے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ان حملوں کے بعد خطے میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی انتہائی تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
بندر عباس اور بوشہر پر بمباری
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی جنگی طیاروں نے ایران کے جنوبی ساحلی شہروں ‘بندر عباس’ اور ‘بوشہر’ میں اسٹریٹجک فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں 80 سے زائد اہداف پر درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حالیہ ایرانی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ جاں بحق ہونے والے اہلکاروں کا تعلق ایرانی فوج کی فضائی اور بحری اکائیوں سے تھا۔
ایران کا جوابی حملہ
امریکی جارحیت کے جواب میں ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب (IRGC) اور باقاعدہ فوج نے بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق انہوں نے بحرین اور کویت سمیت خطے میں قائم 85 امریکی فوجی مراکز پر ڈرونز اور میزائل داغے۔ دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے دفاعی نظام نے زیادہ تر میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا اور ان حملوں میں کوئی امریکی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
عالمی برادری کی تشویش اور جنگ بندی کی اپیل
اس تازہ ترین تصادم کے بعد خطے میں پہلے سے موجود تناؤ سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس اور پاکستان سمیت عالمی رہنماؤں نے دونوں ممالک سے فوری طور پر سیز فائر اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ لڑائی نہ رکی تو اس کے عالمی معیشت اور علاقائی سلامتی پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں

