اسلام آباد( الفجرآن لائن) پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے بعد امریکہ اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں اور گزشتہ ماہ طے پانے والے ‘اسلام آباد مفاہمت نامے’ (MoU) کے تحت اپنے وعدوں کا احترام کریں۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک ہنگامی بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں کسی بھی نئے تنازعے کی گنجائش نہیں ہے اور فریقین کو امن کی خاطر سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
یہ سفارتی کوششیں اس وقت سامنے آئی ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ طے پانے والے عبوری امن معاہدے کو "ختم” قرار دیتے ہوئے ایرانی اہداف پر نئے فوجی حملوں کی دھمکی دی ہے۔ اس اعلان کے فوری بعد ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) کی جانب سے بحرین میں امریکی پانچویں بیڑے کے ہیڈ کوارٹر اور کویت میں علی السالم ایئر بیس سمیت 85 امریکی فوجی ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے، جس سے خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ہیں۔
واضح رہے کہ 17 جون کو پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والا ‘اسلام آباد مفاہمت نامہ’ ایک 14 نکاتی عبوری معاہدہ ہے۔ اس کا بنیادی مقصد 60 دنوں کے لیے دشمنی کو روکنا اور تجارتی جہاز رانی کے لیے انتہائی اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا تھا۔ وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ یہ مفاہمت نامہ اب بھی باہمی احترام اور خطے کی خوشحالی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے، اور پاکستان واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنا ثالثی کا کردار جاری رکھنے کے لیے مکمل تیار ہے

