وزیر داخلہ لیویز کی بحالی اسمبلی کی قانون سازی سے ممکن، ایف سی چیک پوسٹوں پر خدشات کور کمانڈر کے سامنے رکھے جائیں، حکومتی وفد
کوئٹہ(الفجر آن لائن)سانحہ زیارت کے شہدا کے لواحقین کے ساتھ گزشتہ شب سے جاری مذاکرات کے دوران حکومتی وفد نے وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ٹیلیفونک مشاورت کے بعد شرکا کو حکومتی فیصلوں اور یقین دہانیوں سے آگاہ کیا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ گزشتہ روز بھی وزیراعلی کی ہدایات پر لواحقین سے مذاکرات کے لیے آئے تھے اور وزیراعلی نے اس سانحے کو اپنے بھائیوں کا غم سمجھتے ہوئے ذاتی طور پر اس معاملے کی نگرانی کی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلی میر سرفراز بگٹی خود بذریعہ سڑک زیارت پہنچے، متاثرہ علاقے کچ کا دورہ کیا، عوام کے مسائل سنے اور فوری احکامات جاری کیے۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد متعلقہ ایس پی کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا، جبکہ وزیراعلی کی ہدایت پر ایسے قانونی فورم کے قیام کا فیصلہ کیا گیا جو واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے نتیجے تک پہنچ سکے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ لواحقین کے مطالبات وزیراعلی کے سامنے رکھ دیے گئے ہیں اور حکومت بھی شہدا کی قربانیوں پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کی حامی ہے۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پیر کے روز وزیراعلی خود عدالتی تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کریں گے، جس کے لیے سیکرٹری قانون سے بھی مشاورت مکمل کر لی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلی نے واضح ہدایت دی ہے کہ ریاست کے علاوہ کسی بھی مسلح جتھے کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، اس لیے آئندہ 12 سے 24 گھنٹوں کے اندر مسلح گروہوں کے خلاف بھرپور کارروائی شروع کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ جن عناصر کی نشاندہی پہلے سے موجود ہے ان کے خلاف بھی کارروائی ہوگی، جبکہ عوام جن افراد کی نشاندہی کریں گے ان کے خلاف بھی قانون کے مطابق ایکشن لیا جائے گا۔
حکومتی وفد نے کہا کہ دہشت گردی کا مسئلہ موجودہ حکومت کی پیداوار نہیں بلکہ کئی برسوں سے چلا آ رہا ہے۔

