5 جولائی کو پیش آنے والے سانحہ زیارت کچ کے فوراً بعد صوبائی وزیر نے 30 شہید اور مغوی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے دن رات کوششیں کیں‘صوبائی وزیر
پشتونخوا میپ کے دور میں پولیس لائنز اور دیگر مقامات پر بے گناہ اہلکاروں کو شہید کیا گیا۔ آج زیارتوال اور ان کی پارٹی کے بے روزگار عہدیدار شہداء کے نام پر سیاست کر رہے ہیں‘بیان
کوئٹہ(الفجر آن لائن) صوبائی وزیر برائے خوراک حاجی نورمحمد خان دمڑ کے ترجمان نے رحیم زیارتوال کے بیان کو گھٹیا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ رحیم زیارتوال سیاسی طور پر بے اثر ہو چکے ہیں اور اب وہ شہداء کے جنازوں پر سیاست کر کے سستی شہرت حاصل کرنا چاہتے ہیں
صوبائی کے ترجمان کے مطابق 5 جولائی کو پیش آنے والے سانحہ زیارت کچ کے فوراً بعد صوبائی وزیر نے 30 شہید اور مغوی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے دن رات کوششیں کیں۔
بازیاب ہونے والے اہلکار نہ وزیر کے رشتہ دار تھے اور نہ ہی عزیز۔ شہید ہونے والے تمام 30 پولیس اہلکار حاجی نورمحمد خان دمڑ کے اپنے علاقے، قبیلے اور قوم کے بیٹے تھے، اس لیے ان کا غم صوبائی وزیر کا ذاتی غم ہے۔
صوبائی وزیر کے ترجمان نے کہا کہ 5 جولائی سے آج تک حاجی نورمحمد خان دمڑ سانحہ زیارت کچ کے شہداء کے گھروں میں جا کر لواحقین سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کر رہے ہیں اور غمزدہ خاندانوں کے زخموں پر مرہم رکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس نازک صورتحال میں بھی رحیم زیارتوال سوشل میڈیا پر بیٹھ کر بلوچستان اور پشتون قوم کے دلوں پر راج کرنے والے صوبائی وزیر پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگا کر اپنی ڈوبتی ہوئی سیاسی ساکھ بچانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ صوبائی وزیر کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ عبدالرحیم زیارتوال کو ایسے الزامات لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔ پشتونخوا میپ کے دورِ حکومت میں بھی بلوچستان کو خون میں نہلایا گیا۔ اسی دور میں کوئٹہ میں وکلاء سمیت سینکڑوں بے گناہ شہری دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ اس وقت زیارتوال اور ان کی جماعت کے وزراء نے کیوں استعفیٰ نہیں دیا؟ اس وقت وہ وزارتوں اور اقتدار کی کرسیوں پر براجمان تھے

