حکومت سے مذاکرات اور قانونی اقدامات کے لیے الگ الگ کمیٹیاں تشکیل، مطالبات فوری تسلیم کرنے کا مطالبہ جوڈیشل کمیشن، لیویز فورس کی بحالی اور مسلح گروہوں کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا، آل پارٹیز اجلاس
کوئٹہ(الفجر آن لائن+نیوزایجنسیاں)زیارت مانگی ڈیم فیز تھری کے شہدا کے حق میں جاری احتجاجی دھرنے کے سلسلے میں آل پارٹیز اور شہدا کے لواحقین کا مشترکہ اجلاس پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال کی صدارت میں منعقد ہوا۔
جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماں، شہدا کے لواحقین، وکلا، انجمن تاجران اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں دھرنے کی موجودہ صورتحال، آئندہ کے لائحہ عمل اور احتجاجی تحریک کو مزید مثر بنانے کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 15 جولائی کو ژوب، ہرنائی، چمن، تربت، گوادر اور پنجگور میں بڑے احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے، جبکہ 16 جولائی کو کوئلہ پاٹک دھرنے میں خواتین اور بچوں کا خصوصی احتجاجی دھرنا ہوگا۔
اس کے علاوہ 17 جولائی کو بلوچستان بھر میں مکمل شٹر ڈان ہڑتال کی جائے گی۔
اجلاس میں واضح کیا گیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دیتے ہوئے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
اجلاس میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں عبدالرحیم زیارتوال، نصراللہ زیرے، جمعیت علما اسلام کے نمائندے، رکن قومی اسمبلی عادل خان بازئی، عوامی نیشنل پارٹی کے اصغر خان اچکزئی، آغا حسن بلوچ اور شہدا کے لواحقین کے نمائندے شامل ہوں گے۔
اسی طرح قانونی معاملات کا جائزہ لینے اور آئندہ کی قانونی حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے سینئر وکلا پر مشتمل ایک الگ کمیٹی بھی قائم کی گئی۔
اجلاس کے شرکا نے مطالبہ کیا کہ مانگی ڈیم زیارت واقعے کی آزاد، شفاف اور بااختیار جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کرائی جائیں، جس کے اختیارات اور ٹرمز آف ریفرنس واضح ہوں۔
اجلاس میں زیارت، ہرنائی، شہبان، تکتو، زرغون اور دیگر متاثرہ علاقوں سے مسلح گروہوں اور دہشت گرد عناصر کے خاتمے، لیویز فورس کی بحالی اور ایف سی کو صوبے سے واپس بلانے کا بھی مطالبہ کیا گیا

