اسلام آباد(الفجر آن لائن ):وفاقی آئینی عدالت نے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں قائم مونال ریسٹورنٹ سے متعلق سپریم کورٹ کا 2024 کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سی ڈی اے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کی اپیلیں منظور کرلیں۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں عدالت نے پیر کو مختصر فیصلہ سناتے ہوئے حکم امتناعی بھی ختم کر دیا اور قرار دیا کہ جائیداد کی ملکیت سے متعلق معاملات کا فیصلہ ٹرائل عدالتیں آزادانہ طور پر کریں گی اور وہ اس سلسلے میں سابقہ عدالتی مشاہدات سے متاثر نہیں ہوں گی۔
عدالت نے ٹرائل کورٹس کو ہدایت کی کہ زیر التوا مقدمات کا جلد از جلد فیصلہ کیا جائے، جبکہ انتظامی نوعیت کے معاملات متعلقہ ریگولیٹری ادارے طے کریں گے۔
سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں متعدد اہم نکات کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کیس دائر کرنے یا نظرثانی درخواست دائر کرنے پر ناراضی کا اظہار بھی مناسب نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ فیصلے میں ایسی باتیں بھی درج کی گئیں جن کا مقدمے کے حقائق سے تعلق نہیں تھا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ عدالت جذباتی فیصلے نہیں کرتی بلکہ قانون اور ریکارڈ کی بنیاد پر فیصلہ دیتی ہے۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ ’’جو سماعت ہوئی، وہی حکم دیں گے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیصلہ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ اس میں عدالتی کارروائی سے باہر کی کئی باتیں بھی شامل تھیں۔
مونال ریسٹورنٹ کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل احسن بھون نے کہا کہ عدالت نے مقدمے کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لیا ہے، جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ عدالت میں ہماری تعریفیں نہ کریں۔
واضح رہے کہ مونال ریسٹورنٹ کو 2006 میں مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں لیز پر جگہ دی گئی تھی۔
بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اس معاملے پر طویل عدالتی کارروائی ہوئی۔
سپریم کورٹ نے 11 جون 2024 کو فیصلہ دیتے ہوئے مونال، لا مونٹانا اور دیگر ریسٹورنٹس کو نیشنل پارک خالی کرنے کا حکم دیا تھا اور قرار دیا تھا کہ قومی پارک میں تجارتی سرگرمیاں ماحولیاتی تحفظ کے اصولوں کے منافی ہیں۔
بعد ازاں سی ڈی اے نے عدالت کو رپورٹ دی تھی کہ مونال، لامونٹانا اور دیگر تعمیرات مسمار کرکے زمین واگزار کرا لی گئی ہے۔
رواں سال وفاقی آئینی عدالت میں سی ڈی اے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کی جانب سے دائر اپیلوں میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باعث بلدیاتی ادارہ لیز اور کرایہ کی مد میں واجب الادا رقوم سے محروم ہوگیا۔
جبکہ یہ فنڈز اسلام آباد میں بلدیاتی خدمات اور مارگلہ نیشنل پارک کے اطراف واقع دیہات کی ترقی پر خرچ ہونے تھے۔
آئینی عدالت نے ان اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے سپریم کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

