برسلز(الفجر آن لائن):یورپ کے مغربی حصے میں جون کے آخر میں آنے والی ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کے دوران 10 ہزار سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں۔
جن میں اکثریت 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تھی۔ یورپی مرکز برائے انسداد امراض (ECDC) اور عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے قائم یورو مومو (EuroMOMO) نیٹ ورک کے جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ 9 ہزار سے زیادہ اموات 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں ہوئیں۔
ڈنمارک کے سٹیٹنز سیرم انسٹی ٹیوٹ کے چیف فزیشن لاسے ویسٹرگارڈ نے کہا کہ سال کے اس حصے میں اتنی زیادہ اضافی اموات کا سامنے آنا غیر معمولی اور انتہائی تشویشناک ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جون کے آخر میں آنے والی یہ شدید گرمی کی لہر انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے بغیر تقریباً ناممکن تھی۔
کیونکہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہیٹ ویوز زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ آ رہی ہیں۔
یہ اعداد و شمار 27 یورپی ممالک کے قومی اموات کے ریکارڈ پر مبنی ہیں اور 22 تا 28 جون کے دوران ہونے والی تمام اضافی اموات کا احاطہ کرتے ہیں، جب فرانس، سپین، برطانیہ اور دیگر ممالک میں گرمی کی لہر اپنے عروج پر تھی

