واشنگٹن / دبئی( الفجرآن لائن)صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت ترین فوجی اقدام کا اعلان کرتے ہوئے ایرانی بندرگاہوں کی مکمل بحری ناکہ بندی بحال کر دی ہے۔ اتوار کے روز جنگ بندی کا عارضی معاہدہ ختم ہونے کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ کو متحرک کر دیا گیا ہے۔ یہ ناکہ بندی منگل کی شام 4 بجے (امریکی مشرقی وقت) سے نافذ العمل ہوگی، جس کے تحت خلیج فارس کی بندرگاہوں پر تمام ایرانی اور تجارتی جہازوں کی آمد و رفت پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے امریکہ کو "محافظِ آبنائے ہرمز” قرار دیتے ہوئے ایک نیا اور متنازع فیصلہ بھی کیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ اس بین الاقوامی بحری گزرگاہ سے گزرنے والے تمام غیر جانبدار مال بردار جہازوں کو سیکیورٹی اخراجات کے نام پر 20 فیصد چارجز ادا کرنا ہوں گے۔ بین الاقوامی بحری ماہرین اور اقوام متحدہ کے جہاز رانی کے ادارے نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت کسی بھی ملک کو ایسے چارجز وصول کرنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں ہے۔
دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی خود مختاری کا دعویٰ کرتے ہوئے اس اہم گزرگاہ کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی فضائی حملوں کے جواب میں پاسدارانِ انقلاب نے بحرین، کویت، اردن اور عمان میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر ڈرون اور میزائلوں سے وسیع پیمانے پر حملے کیے ہیں۔ بحرین میں قائم امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کے قریبی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جس کی بحرینی حکام نے شدید مذمت کی ہے۔
اس فوجی تصادم کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں شدید ہلچل مچ گئی ہے۔ خلیج فارس، جہاں سے دنیا کا 20 فیصد تیل اور گیس گزرتی ہے، وہاں کشیدگی بڑھنے کی وجہ سے برینٹ کروڈ آئل کی قیمتوں میں 5 سے 9 فیصد تک کا اچانک اضافہ دیکھا گیا ہے اور قیمتیں 81 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وال اسٹریٹ سمیت دنیا بھر کے بڑے اسٹاک ایکسچینج مندی کا شکار ہو گئے ہیں اور سرمایہ کاروں میں مہنگائی اور عالمی عدم استحکام کا خوف بڑھ گیا ہے

