Syed Farhan Hussain
Creative Director (Designing, Printing & Packaging)
کوئی بھی پروڈکٹ اگرچہ فیکٹری میں تیار ہوتی ہے لیکن اس کی پہلی فروخت دراصل اسٹور کی شیلف پر ہوتی ہے۔ اس سے پہلے کہ کوئی شخص خوراک کا ذائقہ چکھے، اسکن کیئر پروڈکٹ ستعمال کرے یا ڈبہ کھول کر دیکھے کہ اندر کیا ہے، وہ سب سے پہلے اس کی پیکجنگ دیکھتا ہے۔
بس یہی چند ابتدائی لمحے ہوتے ہیں جن میں گاہک اپنی پہلی رائے قائم کرنا شروع کر دیتا ہے کیا یہ پروڈکٹ قابل اعتماد لگ رہی ہے ؟تازہ محسوس ہوتی ہے ؟اعلی معیار کی ہے؟ سستی معلوم ہوتی ہے ؟جدید دکھائی دیتی ہے یا ایسا لگتا ہے جیسے برسوں سے شیلف پر پڑی ہو؟ اسی لیے پیکجنگ کو "خاموش سیلز پرسن "کہا جاتا ہے یہ ایک لفظ نہیں بولتی لیکن ہر لمحہ گاہک کو قائل کرنے میں مصروف رہتی ہے یہ پروڈکٹ کی ہر تفصیل بیان نہیں کر سکتی مگر یہ ضرور طے کر سکتی ہے کہ کوئی شخص اسے اٹھا کر دیکھے گا یا بغیر توجہ دیے اگے بڑھ جائے گا طویل عرصے تک پاکستان میں پیکجنگ کو محض ایک ڑبہ یا کنٹینر سمجھا جاتا رہا مقصد یہ ہوتا تھا کہ پروڈکٹ محفوظ رہے،
اس پر نام چھپ جائے، بنیادی معلومات درج ہو جائیں، اور کام ختم۔ بڑی ایف ایم سی جی(FMCG) کمپنیوں نے جلد ہی سمجھ لیا تھا کہ شیلف پر نمایاں نظر انا کتنا اہم ہے، لیکن زیادہ تر چھوٹے مقامی کاروبار اپنی ساری توجہ صرف ایک پروڈکٹ کے معیار پر دیتے رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں بہت سی مصنوعات واقعی بہترین معیار کی ہوتی تھیں۔ پاکستان میں خوراک، ڈیری مصالحہ جات، کاسمیٹکس ،فیشن اور گھریلو مصنوعات سمیت تقریبا ہر شعبے میں باصلاحیت مینوفیکچررز اور پروڈیوسرز کی کبھی کمی نہیں رہی اصل مسئلہ یہ تھا کہ پیکجنگ اکثر اندر موجود اعلی معیار کی پروڈکٹ کا ساتھ نہیں دے پاتی تھی
۔ایک نہایت عمدہ پروڈکٹ ایسے ڈبے میں پیش کی جاتی جو جلد بازی میں تیار کیا گیا محسوس ہوتا ۔اعلی معیار کی غذائی مصنوعات پر ایسا لوگو ہوتا جو ہر نئی کھیپ کے ساتھ بدل جاتا ،بے شمار رنگ ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے دکھائی دیتے، اور معلومات اسی انداز میں لکھی ہوتی کہ پڑھنا ہی مشکل ہو جاتا۔ بعض اوقات مختلف مصنوعات کی برانڈنگ اس قدر مختلف ہوتی کہ گاہک کو اندازہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ یہ سب ایک ہی کمپنی کی مصنوعات ہیں ۔یعنی پروڈکٹ تو بہترین ہوتی تھی، مگر پہلا تاثر اتنا متاثر کن نہیں ہوتا تھا خوش ائند بات یہ ہے کہ اب یہ صورتحال بدل رہی ہے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ سے زیادہ کاروبار برانڈنگ، پیکجنگ اور مجموعی کسٹمر ایکسپیرینس کو سنجیدگی سے لینا شروع کر چکے ہیں
۔ اب یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ پیکجنگ کوئی اضافی خرچ نہیں بلکہ خود پروڈکٹ کا ایک لازمی حصہ ہے اور اکثر یہی وہ پہلی چیز ہوتی ہے جس کے ذریعے گاہک کسی براڈ سے حقیقی طور پر متعارف ہوتا ہے۔ یہ تبدیلی اس لیے بھی بے حد اہم ہے کیونکہ اج کے صارف کے پاس انتخاب کی بے شمار سہولت موجود ہے۔ کسی بھی سپر مارکیٹ میں جائیں تو ایک ہی نوعیت کی چیز فروخت کرنے والے کئی مختلف برانڈ نظر اتے ہیں، جبکہ ان لائن دنیا میں یہ تعداد کہیں زیادہ ہو جاتی ہے۔ کسی کے پاس ہر پروڈکٹ پر تحقیق کرنے کا وقت نہیں۔ لوگ چند لمحوں میں فیصلہ کرتے ہیں، صرف اس بنیاد پر کہ پروڈکٹ کیسی دکھائی دیتی ہے ،کتنی مانوس محسوس ہوتی ہے اور پہلی نظر میں اس کے معیار کے بارے میں کیا تاثر دیتی ہے یہ تمام گفتگو دراصل پیکجنگ ہی کرتی ہے
۔ صاف ستھرا ڈیزائن صفائی اور اعتماد کا احساس پیدا کرتا ہے نمایاں رنگ بھیڑ میں موجود پروڈکٹ کو الگ پہچان دیتے ہیں واضح اور اسان فونٹس معلومات کو فورا سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ معیاری تصاویر خوراک کو مزید لذیذ و دلکش بنا دیتی ہیں ۔بہتر مٹیریل پروڈکٹ کو اس کی قیمت سے زیادہ محسوس کروا سکتا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، مستقل مزاج براڈنگ گاہک کو اگلی بار بھی ایک نظر میں اپ کی پروڈکٹ پہچاننے کے قابل بناتی ہے۔

